ایمیزون نے پیر کے روز ایک اہم اعلان کرتے ہوئے اپنا وسیع عالمی لاجسٹک اور سپلائی چین نیٹ ورک اب تمام کاروباری اداروں کے لیے کھول دیا ہے۔ اس نئی سروس کو 'ایمیزون سپلائی چین سروسز' کا نام دیا گیا ہے، جو روایتی طور پر صرف ایمیزون کے اپنے سیلرز تک محدود تھی۔ اس بڑے فیصلے نے ای کامرس اور لاجسٹک مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ اب ایمیزون براہ راست یو پی ایس (UPS) اور فیڈ ایکس (FedEx) جیسی بڑی کوریئر اور فریٹ کمپنیوں کے مدمقابل آ گیا ہے۔
اس نئی سہولت کے تحت اب کوئی بھی چھوٹا یا بڑا کاروبار ایمیزون کی فریٹ، ڈسٹری بیوشن، فل فلمنٹ اور پارسل شپنگ کی خدمات حاصل کر سکے گا۔ کمپنی کے مطابق، یہ سروس نہ صرف ریٹیل بلکہ ہیلتھ کیئر، آٹوموٹو، اور مینوفیکچرنگ جیسی دیگر اہم صنعتوں کو بھی بھرپور سپورٹ فراہم کرے گی۔ ایمیزون کے اس نئے اقدام کو کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی دنیا میں ایمیزون ویب سروسز (AWS) کے انقلاب سے تشبیہ دی جا رہی ہے، جس نے انفراسٹرکچر کے شعبے میں نئی تاریخ رقم کی تھی۔
امریکہ، برطانیہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ میں مقیم جنوبی ایشیائی اور اردو بولنے والے تارکین وطن کے لیے یہ پیش رفت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ان خطوں میں ہزاروں پاکستانی اور انڈین تارکین وطن ای کامرس، ڈراپ شپنگ، اور لاجسٹکس کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ایمیزون کے اس نئے نیٹ ورک تک رسائی سے ان تارکین وطن تاجروں کو اپنی مصنوعات عالمی سطح پر بھیجنے اور لاگت میں کمی لانے کا ایک نیا اور مؤثر آپشن ملے گا، جس سے ان کے کاروبار کو مزید وسعت ملے گی۔ مزید برآں، ٹرکنگ اور فریٹ کے شعبے سے وابستہ جنوبی ایشیائی افراد کے لیے بھی روزگار اور کنٹریکٹ کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ایمیزون سپلائی چین سروسز کے نائب صدر پیٹر لارسن کا کہنا ہے کہ کمپنی اپنی دہائیوں کی سپلائی چین کی مہارت، انفراسٹرکچر اور جدید ٹیکنالوجی اب ہر کاروبار کی دہلیز تک لا رہی ہے۔ اس سروس کی افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پراکٹر اینڈ گیمبل، تھری ایم (3M)، اور امریکن ایگل آؤٹ فٹرز جیسی معروف بین الاقوامی کمپنیوں نے پہلے ہی اس لاجسٹک سروس کو استعمال کرنے کے لیے معاہدے کر لیے ہیں۔ یہ قدم ایمیزون کی ای کامرس ڈویژن کے لیے آمدنی اور ترقی کی ایک نئی راہ ہموار کرے گا۔
