اسلام آباد میں قائم امریکی سفارتخانے نے اعلان کیا ہے کہ ویزا سروسز کی معطلی میں 20 مارچ تک توسیع کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ سفارتخانے کی جانب سے پہلے سے جاری معطلی کی مدت میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے ہزاروں پاکستانی شہری متاثر ہوں گے جو مختلف مقاصد کے لیے امریکہ جانے کے خواہاں ہیں۔ سفارتخانے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام 'آپریشنل وجوہات' یا 'تکنیکی مسائل' کے باعث اٹھایا گیا ہے، تاہم تفصیلی وجوہات واضح نہیں کی گئی ہیں۔
ویزا سروسز کی اس طویل معطلی سے تعلیمی، کاروباری، سیاحتی اور فیملی ری یونین ویزوں کے درخواست دہندگان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خاص طور پر وہ طلباء جو امریکی جامعات میں داخلہ لے چکے ہیں یا کاروباری افراد جنہیں اہم ملاقاتوں کے لیے سفر کرنا ہے، انہیں اپنے منصوبوں میں تبدیلی لانی پڑے گی۔ اس کے علاوہ، ایسے خاندان جو اپنے پیاروں سے ملنے یا مستقل سکونت اختیار کرنے کے لیے امریکہ جانے کا ارادہ رکھتے تھے، ان کے انتظامات بھی متاثر ہوں گے۔ یہ صورتحال پہلے سے موجود ویزا بیگلگ (backlog) میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔
یہ خبر امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں مقیم جنوبی ایشیائی اور اردو بولنے والے تارکین وطن کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ بہت سے پاکستانی تارکین وطن اپنے والدین، بہن بھائیوں یا دیگر قریبی رشتہ داروں کو امریکہ بلانے کے لیے ویزا پراسیس کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ اس معطلی کا مطلب ہے کہ ان کے پیاروں کے ویزا درخواستوں پر کارروائی مزید تاخیر کا شکار ہوگی، جس سے خاندانی ملاپ کے منصوبے متاثر ہوں گے۔ اس کے علاوہ، ایسے افراد جو امریکہ میں ملازمت حاصل کر چکے ہیں یا جنہوں نے امریکہ میں کاروبار شروع کرنے کا ارادہ کیا ہے، ان کے لیے یہ ایک غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتی ہے، جس سے نہ صرف ان کی ذاتی زندگی بلکہ معاشی صورتحال بھی متاثر ہوگی۔
امریکی سفارتخانے نے درخواست دہندگان کو ہدایت کی ہے کہ وہ تازہ ترین معلومات کے لیے سفارتخانے کی آفیشل ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے رجوع کرتے رہیں۔ ویزا درخواست دہندگان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی سفری منصوبہ بندی سے قبل سفارتخانے کے اعلانات کا انتظار کریں تاکہ مزید مالی نقصان اور مشکلات سے بچا جا سکے۔ امید کی جا رہی ہے کہ سفارتخانہ جلد ہی صورتحال کو واضح کرے گا اور ویزا پراسیس کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات کرے گا تاکہ ہزاروں متاثرہ افراد کو ریلیف مل سکے۔
