امریکہ میں ایک بھارتی نژاد شخص، سندرش کرشنا کی پراسرار گمشدگی نے مقامی پولیس اور جنوبی ایشیائی کمیونٹی کو شدید الجھن اور پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ کئی روز گزر جانے کے باوجود ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا، جس کی وجہ سے ان کے اہل خانہ، دوست اور مقامی افراد شدید صدمے کا شکار ہیں۔ یہ واقعہ دیارِ غیر میں بسنے والے تارکین وطن کی حفاظت کے حوالے سے ایک نیا سوالیہ نشان بن کر سامنے آیا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے اور تفتیش کار سندرش کرشنا کی تلاش کے لیے مختلف زاویوں سے کام کر رہے ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت دیگر شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم تاحال کوئی ٹھوس سراغ ہاتھ نہیں آیا۔ ان کی گمشدگی کے بعد سے سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر اور معلومات تیزی سے شیئر کی جا رہی ہیں تاکہ عوام کی مدد سے انہیں جلد از جلد تلاش کیا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچایا جا سکے۔
اس واقعے نے امریکہ میں مقیم پاکستانی، ہندوستانی اور اردو بولنے والے تارکین وطن کی زندگیوں اور ان کے تحفظ کے احساس پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ روزگار، کاروبار اور تعلیم کے سلسلے میں اپنے وطن سے دور مقیم افراد میں اس پراسرار گمشدگی کے بعد عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ مقامی کمیونٹی رہنماؤں نے تمام تارکین وطن پر زور دیا ہے کہ وہ محتاط رہیں، اپنے پیاروں سے مسلسل رابطے میں رہیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں۔
جنوبی ایشیائی تنظیمیں اور تارکین وطن کے نمائندے سندرش کی تلاش میں پولیس کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہے ہیں اور کمیونٹی کو متحد رہنے کا پیغام دے رہے ہیں۔ اس واقعے کے تناظر میں تارکین وطن کی جانب سے یہ مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے کہ اقلیتی اور تارکین وطن کمیونٹیز کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی کے مزید موثر اور جامع اقدامات کیے جائیں۔ پوری کمیونٹی اس وقت سندرش کرشنا کی بحفاظت واپسی کے لیے دعا گو ہے۔
