ح
Sports1 مئی، 2026

'سپر شوز' کی جدت کو نہیں روکا جائے گا، ورلڈ ایتھلیٹکس کے صدر کا اعلان

ورلڈ ایتھلیٹکس کے صدر سیبسٹین کوئے نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم دوڑ کے 'سپر شوز' میں جدت کو نہیں روکے گی۔ یہ بیان لندن میراتھن میں سباسٹین ساوی کے ریکارڈ ساز وقت کے بعد سامنے آیا ہے، جنہوں نے دو گھنٹے سے کم وقت میں میراتھن مکمل کی۔

'سپر شوز' کی جدت کو نہیں روکا جائے گا، ورلڈ ایتھلیٹکس کے صدر کا اعلان

ورلڈ ایتھلیٹکس کے صدر سیبسٹین کوئے نے 'سپر شوز' کی بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے جاری بحث کے باوجود یہ واضح کیا ہے کہ ان کی تنظیم کھیلوں میں جدت کی حوصلہ شکنی نہیں کرے گی۔ یہ بیان کینیا کے سباسٹین ساوی کی لندن میراتھن میں ریکارڈ ساز فتح کے بعد آیا ہے، جنہوں نے پہلی بار دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں میراتھن دوڑ کر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ ان کی اس کامیابی کو ان جدید جوتوں سے منسوب کیا جا رہا ہے، تاہم کوئے کا کہنا ہے کہ ایتھلیٹکس کا کردار نہ صرف ترقی کو ممکن بنانا ہے بلکہ ایک ذمہ دارانہ ریگولیٹری فریم ورک بھی فراہم کرنا ہے۔

ساوی کی 1 گھنٹہ 59 منٹ 30 سیکنڈ کی شاندار کارکردگی نے دنیا بھر کے ایتھلیٹس اور شائقین کو حیران کر دیا ہے۔ انہوں نے ایڈیڈاس کے 'ایڈی زیرو ایڈیوس پرو ایوو 3' جوتے پہنے تھے، جو کہ 100 گرام سے کم وزنی ہیں اور 1.6 فیصد کارکردگی میں بہتری کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تاہم، ان جوتوں کی قیمت تقریباً 500 ڈالر ہے، جو کہ نئے ٹیلنٹ کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ خاص طور پر جنوبی ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے ان نوجوان کھلاڑیوں کے لیے جو محدود وسائل کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر اپنی پہچان بنانا چاہتے ہیں۔ یہ مہنگے جوتے اور ٹیکنالوجی کی دستیابی کا فرق ایک ایسے کھیل میں عدم مساوات پیدا کر سکتا ہے جہاں انسانی محنت اور صلاحیت کو سب سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس سے تارکین وطن برادریوں میں بھی بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا ان کے بچے بھی اس قسم کی مہنگی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کر پائیں گے۔

گزشتہ دہائی میں 'سپر شوز' کے عروج نے ورلڈ ایتھلیٹکس کو ایک فعال ریگولیٹری کردار ادا کرنے پر مجبور کیا ہے۔ 2016 کے ریو اولمپکس میں نائیکی کے 'ویپر فلائی 4%' پروٹو ٹائپس کے استعمال کے بعد، 2020 میں گورننگ باڈی نے جوتوں کے سول کی موٹائی، کاربن فائبر پلیٹوں کے ڈیزائن اور تجارتی دستیابی پر حدیں مقرر کیں تاکہ ٹیکنالوجیکل برتری کو بے جا فائدہ نہ ملے۔ سیبسٹین کوئے نے اس عمل کو ایک ارتقائی عمل قرار دیا اور کہا کہ وہ جوتا ساز کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ ایسے قوانین بنائے جا سکیں جو جدت کو سراہنے کے ساتھ ساتھ کھیل کے بنیادی اصولوں کو برقرار رکھیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف کارکردگی بڑھاتی ہے بلکہ چوٹوں سے بچاؤ میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے، جس سے کھلاڑی زیادہ عرصے تک کھیل میں فعال رہ سکتے ہیں۔

جہاں ورلڈ ایتھلیٹکس ٹیکنالوجی اور کھیل کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، وہیں ناقدین کو خدشہ ہے کہ جدید جوتوں کا بڑھتا ہوا استعمال کہیں انسانی برداشت اور قابلیت کی بجائے انجینئرنگ کی برتری کو ظاہر نہ کرے۔ سیبسٹین کوئے اس تشویش کو تسلیم کرتے ہیں لیکن یقین رکھتے ہیں کہ کھیل اب بھی صحیح راستے پر ہے۔ تارکین وطن برادریوں میں، جہاں کھیل ایک اہم ثقافتی اور سماجی سرگرمی ہے، وہاں ان پیش رفتوں کو بہت گہرائی سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ بحث کہ کیا ٹیکنالوجی واقعی کھیل کو بہتر بنا رہی ہے یا صرف اسے مہنگا کر رہی ہے، ان والدین کے لیے بھی اہم ہے جو اپنے بچوں کو ایتھلیٹکس میں روشن مستقبل دکھانا چاہتے ہیں۔ ورلڈ ایتھلیٹکس کا یہ فیصلہ نہ صرف پیشہ ور کھلاڑیوں بلکہ دنیا بھر کی کمیونٹیز کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہے جو اس کھیل سے وابستہ ہیں۔

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Original Source: BBC Africa (AI Translated)