اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز نے جمعہ کو آسکر ایوارڈز کے لیے نئے قوانین کا اعلان کیا ہے، جن میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال سے متعلق کئی اہم تبدیلیاں شامل ہیں۔ ان نئے قواعد کے مطابق، اب صرف وہی پرفارمنس ایوارڈ کے لیے اہل ہوں گی جو قانونی بلنگ میں شامل ہوں اور 'انسانوں کے ذریعے ان کی رضامندی سے انجام دی گئی' ثابت کی جا سکیں۔ اسی طرح، سکرین پلے بھی 'انسانوں کے لکھے ہوئے' ہونے چاہییں تاکہ وہ نامزدگی کے لیے اہل قرار پائیں۔ یہ فیصلہ فلم انڈسٹری میں اے آئی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس کے ممکنہ اثرات پر بڑھتے ہوئے خدشات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
اکیڈمی نے مزید واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی فلم میں اے آئی کے استعمال اور انسانی تصنیف کے بارے میں مزید معلومات طلب کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ یہ قدم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے کہ فنکارانہ تخلیق اور انسانی محنت کی اہمیت کو برقرار رکھا جائے۔ یہ قواعد خاص طور پر ایسے وقت میں آئے ہیں جب فلمی دنیا میں اے آئی سے تیار کردہ کرداروں، جیسے کہ وال کلمر کا اے آئی ورژن اور اے آئی 'اداکارہ' ٹیلی ناروو، کے بارے میں بحث زوروں پر ہے۔
فلم سازوں کی جانب سے اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال پر مایوسی اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ 2023 میں ہونے والی اداکاروں اور لکھاریوں کی ہڑتالوں میں بھی اے آئی ایک اہم تنازع کا باعث تھی، جہاں فنکاروں نے اپنی ملازمتوں اور تخلیقی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ نئے قواعد دراصل انہی خدشات کا عملی جواب ہیں، جو ہالی ووڈ میں انسانی تخلیقی صلاحیتوں کو مرکزی حیثیت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہالی ووڈ سے باہر بھی، اے آئی کے استعمال پر سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ایک پبلشر نے اے آئی کے استعمال کی وجہ سے ایک ناول کی اشاعت روک دی ہے، اور دیگر لکھاری تنظیمیں بھی اے آئی سے تیار کردہ کام کو ایوارڈز کے لیے نااہل قرار دے رہی ہیں۔ یہ تبدیلیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ عالمی سطح پر تخلیقی صنعتیں مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثرات کے حوالے سے سنجیدہ مکالمے میں مشغول ہیں اور اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہیں کہ اصل فن اور انسانی کاوش کو ہی سراہا جائے۔
