دنیا بھر میں قائم پاکستانی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں پاسپورٹ کے اجراء اور تجدید کا عمل اچانک رکنے سے عالمی سطح پر پاکستانی پاسپورٹ سروسز معطل ہو گئی ہیں۔ فنی خرابی اور انتظامی مسائل کے باعث اس اہم سرکاری سروس کی بندش نے بیرون ملک مقیم لاکھوں پاکستانیوں کو ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سسٹم کی بحالی تک پاسپورٹ کی پروسیسنگ اور پرنٹنگ کے عمل میں غیر معمولی تاخیر متوقع ہے۔
اس عالمی معطلی کا سب سے زیادہ اور براہ راست اثر پاکستانی تارکین وطن کی زندگیوں پر پڑ رہا ہے، جن کے ویزوں، اقاموں اور ملازمتوں کا مکمل دارومدار ایک کارآمد پاسپورٹ پر ہوتا ہے۔ جن افراد کے پاسپورٹ کی میعاد ختم ہو رہی ہے، وہ اب اپنے ورک پرمٹ اور رہائشی ویزوں کی تجدید کروانے سے قاصر ہیں۔ قانونی سفری دستاویزات کی عدم دستیابی کے باعث تارکین وطن کو بھاری جرمانوں، ڈی پورٹیشن اور روزگار چھن جانے جیسے سنگین خطرات کا سامنا ہے۔
خاص طور پر مشرق وسطیٰ، امریکہ اور یورپ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اس وقت شدید ذہنی کرب کا شکار ہے۔ خلیجی ممالک میں محنت مزدوری کرنے والے افراد کے لیے پاسپورٹ کا بروقت نہ ملنا ان کے قانونی اسٹیٹس کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ کئی خاندان جو کسی طبی یا خاندانی ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر سفر کرنا چاہتے ہیں، وہ بھی پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے اپنی پروازیں منسوخ کرنے پر مجبور ہیں۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی مختلف تنظیموں اور کمیونٹی رہنماؤں نے حکومت پاکستان اور وزارت داخلہ سے پرزور اپیل کی ہے کہ اس بحران کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ تارکین وطن کا مطالبہ ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے پاسپورٹ کی فراہمی کے عمل کو ترجیحی بنیادوں پر جلد از جلد بحال کیا جائے، تاکہ دیارِ غیر میں ان کا قانونی تحفظ یقینی بن سکے اور ملکی معیشت میں زرمبادلہ بھیجنے والے ان شہریوں کی مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔
