جرمنی نے حالیہ اطلاعات کے تناظر میں امریکی فوجیوں کے ملک سے انخلا کے امکان کو 'قابل پیشین گوئی' قرار دیا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ امریکہ جرمنی میں تعینات اپنے 34,500 فوجیوں میں سے تقریباً 5,000 کو واپس بلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جرمنی کے حکام نے اس معاملے پر محتاط ردعمل کا اظہار کیا ہے، تاہم اس فیصلے کے ممکنہ اثرات پر سفارتی سطح پر بحث و مباحثہ کا آغاز ہو گیا ہے۔ امریکی فوج کی جرمنی میں موجودگی کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات اور یورپی سکیورٹی کا ایک اہم ستون رہی ہے۔
امریکی فوج کے اس ممکنہ انخلا کی خبر کے بعد شمالی بحر اوقیانوس معاہدے کی تنظیم (نیٹو) نے واشنگٹن سے فوری طور پر وضاحت طلب کی ہے۔ نیٹو کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک اہم سکیورٹی فیصلہ ہے جس کے علاقائی اور عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ نیٹو اتحاد کی جانب سے یہ مطالبہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایسے کسی بھی یکطرفہ اقدام سے قبل اتحادیوں کے درمیان مکمل مشاورت اور ہم آہنگی ضروری ہے۔ یورپی ممالک کو خدشہ ہے کہ امریکی فوج کی کمی سے روس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
ادھر امریکہ کے اندر بھی صدر ٹرمپ کے اس فیصلے پر سخت تنقید ہو رہی ہے۔ دو سینئر ریپبلکن سینیٹرز، جو عام طور پر صدر کے حمایتی سمجھے جاتے ہیں، نے اس اقدام کو امریکہ کے قومی مفادات کے خلاف اور یورپ میں اس کے اتحادیوں کو کمزور کرنے والا قرار دیا ہے۔ ان سینیٹرز نے خبردار کیا ہے کہ جرمنی سے فوجیوں کے انخلا سے ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کمزور ہوگا اور یہ روس اور چین جیسے حریفوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ امریکی افواج کی آپریشنل صلاحیت پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
یہ صورتحال امریکہ اور جرمنی کے درمیان تعلقات میں ایک نیا موڑ لے رہی ہے، جو پہلے ہی تجارتی اور دفاعی اخراجات جیسے مسائل پر تناؤ کا شکار ہیں۔ امریکی فوجیوں کا انخلا نہ صرف جرمنی کی دفاعی پوزیشن کو متاثر کرے گا بلکہ یورپ میں امریکہ کے مجموعی اسٹریٹجک کردار پر بھی سوالات اٹھا سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نیٹو کی وضاحت کی درخواست اور امریکی کانگریس میں بڑھتی ہوئی تشویش کے پیش نظر وائٹ ہاؤس اس معاملے پر کیا موقف اختیار کرتا ہے اور کیا اس فیصلے پر نظر ثانی کی جاتی ہے۔
