پاکستان کے توانائی سیکٹر میں گیس کا بنیادی مسئلہ اس کی فراہمی نہیں بلکہ غلط ترجیحات اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ موجودہ نظام کے تحت پائپ لائن کے ذریعے سستی گیس زیادہ تر ان شہری اور متمول گھرانوں کو مل رہی ہے جو اسے پانی گرم کرنے جیسے غیر پیداواری مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، جبکہ غریب عوام کو مہنگی لکڑی یا ایل پی جی (LPG) پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی گہری تشویش کا باعث ہے، کیونکہ ملک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور مہنگائی ان کے اہل خانہ کے طرز زندگی کو متاثر کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں انہیں اپنی محنت کی کمائی کا بڑا حصہ آبائی ملک میں گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے بھیجنا پڑتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، گھریلو استعمال کی نصف سے زیادہ پائپ گیس صرف گیزر میں پانی گرم کرنے پر ضائع ہو جاتی ہے، جس پر سالانہ اربوں ڈالر کا زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ دوسری جانب، کمرشل اور صنعتی صارفین جو معیشت کا پہیہ چلاتے ہیں، انہیں گیس دستیاب نہ ہونے کے باعث مہنگی ایل پی جی خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ تارکین وطن، جو اکثر اپنے آبائی ملک میں کاروبار اور صنعت کے قیام کے خواہشمند ہوتے ہیں، ان کے لیے توانائی کا یہ غیر متوازن نظام ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جب تک پیداواری شعبوں کو سستی اور بلاتعطل گیس فراہم نہیں کی جاتی، تب تک ملک میں بیرونی سرمایہ کاری (FDI) اور معاشی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے پانی گرم کرنے اور ہیٹنگ کے لیے جدید الیکٹرک ہیٹ پمپس کو فروغ دیا جائے اور بچ جانے والی گیس کو کمرشل اور صنعتی صارفین کی طرف موڑ دیا جائے۔ اس قدم سے پاکستان سالانہ 2.5 ارب ڈالر تک کا قیمتی زرمبادلہ بچا سکتا ہے، جو بالآخر ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ سمندر پار مقیم پاکستانی معاشی استحکام کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں، کیونکہ ایک مضبوط معیشت نہ صرف ڈالر اور پاؤنڈ کے مقابلے میں روپے کی قدر کو سہارا دیتی ہے بلکہ ان کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلات زر (Remittances) کا صحیح معاشی فائدہ بھی عام آدمی تک پہنچاتی ہے۔
موجودہ گیس سبسڈی کا نظام بھی خامیوں سے بھرپور ہے کیونکہ یہ صرف ان لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے جن کے پاس گیس میٹر موجود ہے، جبکہ غریب ترین طبقہ اس سے مکمل محروم رہتا ہے۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ پائپ لائن پر سبسڈی دینے کے بجائے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے ذریعے براہ راست مستحق افراد کی مالی معاونت کی جائے۔ توانائی کی منصفانہ قیمتوں کا تعین اور اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے حکومت کو سیاسی جرات کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ایسی مؤثر پالیسیاں نہ صرف مقامی آبادی کے لیے ریلیف کا باعث بنیں گی، بلکہ دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں کا ملکی معاشی نظام پر اعتماد بھی بحال کریں گی۔
