بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مغربی بنگال کے ریاستی انتخابات میں حیران کن کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلی مرتبہ اقتدار اپنے نام کر لیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 293 نشستوں پر مشتمل اسمبلی میں بی جے پی فیصلہ کن اکثریت کے ساتھ ابھر رہی ہے، جس نے 2011 سے برسرِ اقتدار ممتا بنرجی کی তৃণমূল کانگریس (ٹی ایم سی) کو بڑا دھچکا دیا ہے۔ نریندر مودی نے اسے 'گڈ گورننس کی فتح' قرار دیا ہے، تاہم ممتا بنرجی نے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے بی جے پی پر 100 سے زائد نشستیں چرانے اور دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے۔ گنتی کے مراکز کے باہر سیاسی کارکنوں میں شدید جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئی ہیں جن پر قابو پانے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔
مغربی بنگال میں بی جے پی کی اس بے مثال کامیابی نے خطے بالخصوص خلیجی ممالک، یورپ اور امریکہ میں مقیم جنوبی ایشیائی اور مسلم تارکین وطن میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ مغربی بنگال ایک حساس سرحدی ریاست ہے جہاں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی بڑی تعداد آباد ہے، اور انتخابی مہم کے دوران ووٹر لسٹوں سے لاکھوں ناموں کے اخراج کو ناقدین نے اقلیتوں کو دبانے کی سازش قرار دیا تھا۔ بیرون ملک مقیم ہندوستانی اور پاکستانی کمیونٹی اس صورتحال کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے، کیونکہ بی جے پی کے سخت گیر قوم پرست ایجنڈے اور شہریت کے متنازع قوانین (جیسے این آر سی اور سی اے اے) پر عمل درآمد سے نہ صرف مقامی اقلیتی خاندانوں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں، بلکہ اس سے جنوبی ایشیا کے علاقائی استحکام اور سرحد پار کشیدگی میں بھی اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
مغربی بنگال کے علاوہ دیگر ریاستوں میں بھی سیاسی زلزلے محسوس کیے گئے ہیں۔ جنوبی ریاست تامل ناڈو میں ایک بڑا انتخابی اپ سیٹ دیکھنے میں آیا جہاں معروف اداکار سے سیاستدان بننے والے سی جوزف وجے کی نئی جماعت 'ٹی وی کے' نے تجربہ کار وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کی حکمران جماعت کو عبرتناک شکست دی۔ نوجوانوں کے روزگار اور بہتر طرزِ حکمرانی کے نعرے پر الیکشن لڑنے والے وجے نے تامل ناڈو کی 80 ملین سے زائد آبادی کو ایک نیا سیاسی متبادل فراہم کیا ہے۔ دوسری جانب کیرالہ میں کانگریس کی قیادت والے اتحاد نے حکمران کمیونسٹ پارٹی کو اقتدار سے بے دخل کر کے 97 میں سے 63 نشستیں جیت لیں، جسے راہول گاندھی نے عوام کا 'فیصلہ کن مینڈیٹ' قرار دیا ہے۔
شمال مشرقی ریاست آسام میں بی جے پی کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے مسلسل تیسری بار کامیابی حاصل کر کے ہیٹ ٹرک مکمل کی ہے، جب کہ پڈوچیری کے ساحلی علاقے میں بھی بی جے پی کا اتحاد اپنا اقتدار برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ مئی 2026 کے ان ریاستی انتخابات کے نتائج نے نریندر مودی کی سیاسی پوزیشن کو ایک ایسے وقت میں مزید مستحکم کر دیا ہے جب وہ اندرون ملک بے روزگاری اور امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدوں سمیت خارجہ پالیسی کے چیلنجز سے نمٹ رہے ہیں۔ 2029 کے عام انتخابات سے قبل ان فتوحات سے بی جے پی کے سیاسی عزائم کو نئی تقویت ملے گی، جس کے اثرات لامحالہ ہندوستان کی داخلہ پالیسی، اقلیتی حقوق کے تحفظ اور بین الاقوامی سطح پر مقیم تارکین وطن کے سماجی تحفظ پر مرتب ہوں گے۔
