مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی کشیدگی کے بعد خطے میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے دفاعی تجزیہ کاروں نے اعتماد سازی کے اقدامات (CBMs) پر ازسرنو غور شروع کر دیا ہے۔ ’ساؤتھ ایشین وائسز‘ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، روایتی فوجی اور سیاسی تنازعات کے ساتھ ساتھ اب 'آبی تحفظ' دونوں ایٹمی قوتوں کے درمیان ایک انتہائی حساس اور اہم مسئلہ بن کر ابھرا ہے، جس کے حل کے لیے فوری سفارتی کاوشوں کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی موجودہ شقیں ماحولیاتی تبدیلیوں اور پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔ دریاؤں کے پانی کی تقسیم پر پیدا ہونے والے حالیہ اختلافات اور ڈیمز کی تعمیر کے تنازعات نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ دونوں ممالک کو مستقبل میں کسی بڑے آبی بحران اور ممکنہ جنگ سے بچنے کے لیے آبی وسائل کے شفاف اور منصفانہ استعمال پر مبنی نئے میکانزم تیار کرنے ہوں گے۔
اس کشیدہ صورتحال کا اثر صرف خطے تک محدود نہیں ہے، بلکہ مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکہ میں مقیم لاکھوں جنوبی ایشیائی تارکین وطن بھی اس حوالے سے گہری تشویش کا شکار ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی اور بھارتی کمیونٹیز کے لیے اپنے آبائی علاقوں میں پانی کی قلت، خشک سالی اور اس سے جڑے جنگ کے خطرات شدید ذہنی دباؤ کا باعث بنتے ہیں۔ خطے میں عدم استحکام کا براہِ راست اثر تارکین وطن کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر، پراپرٹی میں سرمایہ کاری، سفری سہولیات، اور بین الاقوامی سطح پر ڈائسپورا کمیونٹیز کے آپسی تعلقات پر بھی منفی انداز میں پڑتا ہے۔
موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ عالمی برادری کی سرپرستی میں دونوں ممالک تناؤ کو کم کرنے کے لیے آبی سفارت کاری کو فروغ دیں۔ بیرون ملک مقیم جنوبی ایشیائی فلاحی تنظیمیں اور کمیونٹی لیڈرز بھی اپنی حکومتوں پر مسلسل زور دے رہے ہیں کہ وہ عوام کی بقا اور معاشی استحکام کے لیے پانی جیسے بنیادی انسانی مسئلے پر سیاست کے بجائے باہمی تعاون کا راستہ اپنائیں۔ خطے کے مستقل امن اور تارکین وطن کے ذہنی سکون کے لیے ضروری ہے کہ آبی تحفظ کو مشترکہ چیلنج سمجھ کر مؤثر حل تلاش کیے جائیں۔
