ایران ایک ہولناک معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے جہاں 'آپریشن اکنامک فیوری' کے نام سے جاری معاشی جنگ نے ملک کو مفلوج کر دیا ہے۔ ایک کمزور جنگ بندی کے باوجود، جو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف عسکری کارروائیوں کو عارضی طور پر روکنے میں کامیاب رہی، اس معاشی محاصرے کی قیمت عوام کو چکانی پڑ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ملک بھر میں لاکھوں ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں، جس سے بے روزگاری میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور عوام کی قوت خرید شدید متاثر ہوئی ہے۔
امریکی پابندیاں اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی سپلائی چین کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں ضروری اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ کاروباروں کو اپنے ملازمین کو برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور کئی چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں بندش کے دہانے پر ہیں۔ یہ صورتحال ایرانی شہریوں کی روزمرہ زندگی کو تباہ کر رہی ہے، جہاں مہنگائی اور بے روزگاری نے ان کی امیدوں کو گہنا دیا ہے اور مستقبل کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔
اس معاشی بدحالی کا گہرا اثر ایران میں مقیم جنوبی ایشیائی، خاص طور پر اردو بولنے والی کمیونٹی پر بھی پڑ رہا ہے۔ پاکستانی، بھارتی اور افغان تارکین وطن، جو عام طور پر مزدور، چھوٹے کاروباری یا ہنر مند کارکن کے طور پر ایران میں کام کرتے ہیں، اب اپنی ملازمتیں کھو رہے ہیں۔ کمپنیوں کی بندش اور تعمیراتی کاموں میں کمی کی وجہ سے ان کے لیے روزگار کے مواقع سکڑ گئے ہیں، جس سے ان کی آمدنی میں کمی آئی ہے۔ نتیجے کے طور پر، پاکستان، بھارت یا افغانستان میں اپنے خاندانوں کو بھیجی جانے والی ترسیلات زر (remittances) میں بھی شدید کمی واقع ہوئی ہے، جس سے ان کے آبائی ممالک میں انحصار کرنے والے خاندانوں کی معاشی حالت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ خوراک اور رہائش کے بڑھتے اخراجات نے ان تارکین وطن کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے لیے تشویشناک ہے۔ معاشی دباؤ سے سماجی بے چینی بڑھنے کا خدشہ ہے اور خطے میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے فوری مداخلت اور معاشی پابندیوں میں نرمی کے بغیر، ایران کو اس گہرے معاشی دلدل سے نکلنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے، جس کے دور رس منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
