برطانوی دفتر خارجہ (FCDO) نے امریکہ کا سفر کرنے والے لاکھوں برطانوی سیاحوں کے لیے اپنی سفری ہدایات میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ اس نئی ایڈوائزری میں داخلے کی شرائط، ایئرپورٹ سیکیورٹی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے تازہ ترین معلومات شامل کی گئی ہیں۔ برطانیہ میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں اور جنوبی ایشیائی باشندوں کے لیے یہ اپ ڈیٹ انتہائی اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ ان کی ایک بڑی تعداد گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے خاندانوں سے ملنے یا سیاحت کی غرض سے امریکہ کا سفر کرتی ہے۔
نئی سفری ہدایات میں الیکٹرانک سسٹم فار ٹریول آتھرائزیشن (ESTA) کے حصول میں ممکنہ تاخیر اور امریکی امیگریشن پر سخت چیکنگ کے حوالے سے خبردار کیا گیا ہے۔ برطانوی دفتر خارجہ نے ہدایت کی ہے کہ تمام سیاح سفر سے کافی عرصہ قبل اپنے ویزے اور سفری دستاویزات مکمل کر لیں۔ برطانوی نژاد پاکستانیوں اور دہری شہریت رکھنے والے افراد کو خاص طور پر مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی دستاویزات کو ہر لحاظ سے مکمل رکھیں تاکہ امریکی ہوائی اڈوں پر کسی بھی قسم کی غیر ضروری پوچھ گچھ یا تاخیر سے بچا جا سکے۔
دستاویزات کے علاوہ، دفتر خارجہ نے فلوریڈا، ٹیکساس اور کیلیفورنیا جیسی مقبول ریاستوں میں شدید موسم، بشمول ہیٹ ویوز اور ممکنہ سمندری طوفانوں کے حوالے سے بھی الرٹ جاری کیا ہے۔ چونکہ ان ریاستوں میں اردو بولنے والے تارکین وطن کی ایک بہت بڑی تعداد آباد ہے، اس لیے برطانیہ سے ان سے ملنے جانے والے رشتہ داروں کو مقامی موسمی حالات اور ہنگامی صورتحال سے باخبر رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ سفری دورانئے میں کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مقامی خبروں پر نظر رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
سفری ماہرین نے تمام مسافروں پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ روانگی سے قبل جامع ٹریول اور ہیلتھ انشورنس ضرور حاصل کریں کیونکہ وہاں علاج معالجے کے اخراجات انتہائی زیادہ ہیں۔ جنوبی ایشیائی کمیونٹی کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اہم خاندانی اور سفری کاغذات کی ڈیجیٹل کاپیاں اپنے پاس محفوظ رکھیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں امریکہ میں موجود برطانوی سفارت خانے سے رابطے میں رہیں تاکہ ان کا سفر محفوظ اور پرسکون گزر سکے۔
