متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور ترکیہ نے عالمی تجارت کو زیادہ محفوظ اور موثر بنانے کے لیے ایک نئی متبادل تجارتی راہداری پر مشترکہ طور پر کام تیز کر دیا ہے۔ اس اہم جغرافیائی و معاشی منصوبے کا بنیادی مقصد دنیا کے اہم ترین سمندری راستے، آبنائے ہرمز، پر انحصار کم کرنا ہے۔ حالیہ برسوں میں خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے ان ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ توانائی اور تجارتی سامان کی بلا تعطل ترسیل کے لیے متبادل راستوں کا ہونا ناگزیر ہے۔
یہ نیا تجارتی اور لاجسٹک کوریڈور جدید ہائی ویز، وسیع ریلوے نیٹ ورکس اور پائپ لائنز کے نظام پر مشتمل ہوگا جو خلیجی ممالک کو ترکیہ کے راستے براہ راست یورپ اور دیگر بین الاقوامی منڈیوں سے جوڑ دے گا۔ اس منصوبے کی بدولت نہ صرف تجارتی لاگت اور وقت میں کمی واقع ہوگی بلکہ عالمی سپلائی چین کو خطرات سے بچانے میں بھی غیر معمولی مدد ملے گی، جو کہ خطے کی معاشی خود مختاری کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔
اس عظیم الشان میگا پراجیکٹ کا براہ راست اور نمایاں فائدہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں مقیم لاکھوں جنوبی ایشیائی، بالخصوص پاکستانی تارکین وطن کو پہنچے گا۔ اس راہداری کی تعمیر اور مستقبل میں اس کے انتظامات سنبھالنے کے لیے بڑے پیمانے پر انجینئرز، کنسٹرکشن ورکرز، لاجسٹکس ماہرین، اور ٹرانسپورٹ ورکرز کی ضرورت پیش آئے گی۔ روزگار کے ان نئے مواقع سے نہ صرف بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا معیار زندگی بلند ہوگا بلکہ ان کے آبائی ممالک کو بھیجی جانے والی ترسیلات زر (Remittances) میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
معاشی ماہرین کے مطابق، خلیج اور ترکیہ کے درمیان اس کوریڈور کے فعال ہونے سے خطے کی معیشت مزید مستحکم ہوگی، جس سے یہاں کام کرنے والے غیر ملکی افراد کو طویل مدتی معاشی تحفظ فراہم ہوگا۔ کاروبار میں اضافے اور نئے صنعتی زونز کے قیام سے پاکستانی کاروباری برادری کے لیے سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلیں گے، جس سے تارکین وطن کا مشرق وسطیٰ کے مستقبل اور اس کی ترقی میں کردار مزید کلیدی اور مضبوط ہو جائے گا۔
