کینیڈا کے صوبے البرٹا میں سیاسی علیحدگی کی بحث میں روس اور دیگر غیر ملکی عناصر کی جانب سے مداخلت کا ہوشربا انکشاف ہوا ہے۔ محققین کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، غیر ملکی عناصر مقامی سیاسی شکایات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کینیڈا کی 'ڈیموکریٹک انٹیگریٹی' (جمہوری سالمیت) کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس نے وفاقی اور صوبائی سطح پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
البرٹا کے اہم شہروں، جیسے کیلگری اور ایڈمنٹن، میں مقیم ہزاروں جنوبی ایشیائی اور اردو بولنے والے تارکینِ وطن کے لیے یہ سیاسی پولرائزیشن گہری تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ تارکینِ وطن کا معاشی مستقبل، روزگار اور امیگریشن کے معاملات براہِ راست ملک کے سیاسی اور معاشی استحکام سے جڑے ہوتے ہیں۔ غیر ملکی 'ڈس انفارمیشن' مہمات کے ذریعے پھیلائی جانے والی علیحدگی پسندی کی یہ لہر اس کثیر الثقافتی ہم آہنگی کے لیے خطرہ ہے جس کی بدولت دنیا بھر سے لوگ کینیڈا کا رخ کرتے ہیں۔
رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے یہ عناصر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے البرٹا اور اوٹاوا کی وفاقی حکومت کے درمیان خلیج کو بڑھا رہے ہیں۔ متنازعہ موضوعات کو مصنوعی طور پر فروغ دے کر معاشرے میں انتشار پھیلانے کی یہ کوششیں انتہائی منظم ہیں۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر، مقامی کمیونٹی اور تارکینِ وطن کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ آن لائن سیاسی بیانیے اور خبروں پر یقین کرنے سے قبل حقائق کی تصدیق ضرور کریں۔
مستقبل کے حوالے سے توقع کی جا رہی ہے کہ کینیڈین حکام اپنی 'سائبر سیکیورٹی' کو مزید سخت کریں گے اور غیر ملکی مداخلت کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔ اس غیر مستحکم سیاسی ماحول میں پاکستانی اور دیگر جنوبی ایشیائی تارکینِ وطن کے لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ وہ غیر جانبدار رہیں اور کمیونٹی کی تعمیر و ترقی پر توجہ مرکوز رکھیں۔ ایسا کرنے سے ہی وہ اس وسیع تر عالمی سیاسی تصادم میں آلہ کار بننے کے بجائے کینیڈین معاشرے میں اپنا تعمیری کردار محفوظ رکھ سکیں گے۔
