آسام کے حالیہ انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپنی انتخابی مہم کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا بے تحاشا استعمال کیا ہے۔ گزشتہ دو سالوں پر محیط اس مہم میں 'میمز'، 'شارٹ ویڈیوز' اور 'آرٹیفیشل انٹیلیجنس' سے تیار کردہ تصاویر کے ذریعے ووٹرز کے ذہنوں کو ہموار کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس جدید ڈیجیٹل حکمت عملی کا بنیادی مقصد ریاست میں حزب اختلاف، بالخصوص کانگریس کے رہنماؤں کی سیاسی ساکھ پر تنقید کرنا اور اپنا بیانیہ مضبوط کرنا تھا۔
اس ڈیجیٹل مہم کی سب سے نمایاں خصوصیت حزب اختلاف کے رہنماؤں کو ریاست کے بنگالی مسلم ووٹرز کے ساتھ جوڑ کر پیش کرنا تھا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیلائے گئے اس مواد نے مقامی اور عالمی سطح پر موجود جنوبی ایشیائی اور اردو بولنے والے تارکین وطن میں گہری تشویش پیدا کی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس قسم کی مہم کا مقصد ریاست کی آبادیاتی اور مذہبی تخصیص کو ابھار کر مخصوص ووٹر بیس کو متحرک کرنا تھا، جس سے اقلیتی برادریوں کے حوالے سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
آسام میں شہریت کے قوانین اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے پہلے ہی ایک حساس صورتحال موجود ہے، اور اس نئی ڈیجیٹل پیش رفت نے بیرون ملک مقیم ہندوستانی مسلمانوں اور تارکین وطن کے لیے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ امریکہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ میں مقیم تارکین وطن اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں، کیونکہ یہ ان کے آبائی علاقوں میں موجود اقلیتوں کی سماجی اور سیاسی سلامتی پر براہ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ان تارکین وطن کے لیے اپنے خاندانوں اور برادریوں کا سیاسی مستقبل انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
'آرٹیفیشل انٹیلیجنس' اور جدید ڈیجیٹل ٹولز کے اس بے دریغ استعمال نے انتخابی عمل میں ٹیکنالوجی کے کردار پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سیاسی مہمات میں اس طرح کے مصنوعی مواد اور پروپیگنڈے کا استعمال جمہوری عمل کی شفافیت کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ صورتحال عالمی سطح پر مقیم جنوبی ایشیائی تارکین وطن کے لیے ایک انتباہ ہے کہ مستقبل کی سیاسی صف بندیوں اور انتخابی نتائج میں ڈیجیٹل بیانیے کا کردار کس قدر فیصلہ کن ثابت ہونے والا ہے۔
