ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
World4 مئی، 20261 MIN READ

آسٹریلیا نے بھارتی طلباء کو 'ہائی رسک' ویزا کیٹیگری میں شامل کر دیا، امیگریشن قوانین میں سختی

آسٹریلوی حکومت نے امیگریشن پالیسیوں میں سختی لاتے ہوئے بھارتی طلباء کو ویزا کے حصول کے لیے انتہائی خطرے والی (ہائی رسک) کیٹیگری میں منتقل کر دیا ہے۔ اس اقدام سے آسٹریلیا میں مقیم جنوبی ایشیائی تارکین وطن اور اعلیٰ تعلیم کے لیے جانے والے طلباء کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

آسٹریلیا نے بھارتی طلباء کو 'ہائی رسک' ویزا کیٹیگری میں شامل کر دیا، امیگریشن قوانین میں سختی

آسٹریلیا کے محکمہ داخلہ نے بین الاقوامی طلباء کے ویزا قوانین میں سخت تبدیلیاں متعارف کروائی ہیں، جن کے تحت بھارتی طلباء کو 'ہائی رسک' (انتہائی خطرے والی) کیٹیگری میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ سٹوڈنٹ ویزا کے غلط استعمال، تعلیمی اداروں میں داخلے کی آڑ میں غیر قانونی روزگار اور امیگریشن قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کی بڑھتی ہوئی شکایات کے بعد کیا گیا ہے۔ نئی درجہ بندی کے بعد اب بھارت سے تعلق رکھنے والے درخواست گزاروں کو ویزا کے حصول کے لیے انتہائی کڑی جانچ پڑتال کے عمل سے گزرنا ہوگا۔

اس حکومتی اقدام نے آسٹریلیا میں مقیم جنوبی ایشیائی تارکین وطن اور بالخصوص بھارتی کمیونٹی میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ وہ خاندان جو اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے آسٹریلیا بھیجنے کے خواہشمند ہیں، اب انہیں طویل اور پیچیدہ دستاویزی مراحل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امیگریشن ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی کے باعث نہ صرف مستند طلباء کے لیے رکاوٹیں کھڑی ہوں گی بلکہ اس کا اثر خطے سے تعلق رکھنے والی دیگر کمیونٹیز بشمول پاکستانی اور نیپالی تارکین وطن کی امیگریشن پروفائل پر بھی پڑ سکتا ہے، کیونکہ آسٹریلوی حکام مجموعی طور پر جنوبی ایشیا سے آنے والی درخواستوں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔

آسٹریلیا کی انٹرنیشنل ایجوکیشن انڈسٹری ملکی معیشت میں ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے، جس میں جنوبی ایشیائی طلباء کا حصہ نمایاں ہے۔ متعدد آسٹریلوی یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ویزا کے حصول میں غیر معمولی تاخیر اور مسترد ہونے کی شرح میں اضافے سے آسٹریلیا کا تعلیمی شعبہ معاشی طور پر متاثر ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، حکام کا موقف ہے کہ یہ سخت اقدام ملک کے تعلیمی نظام کے عالمی معیار اور ساکھ کو برقرار رکھنے اور غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے لیے ناگزیر تھا۔

نئے امیگریشن قوانین کے تحت، طلباء کو اب یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے پاس آسٹریلیا میں رہائش اور تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے خاطر خواہ مالی وسائل موجود ہیں۔ اس کے علاوہ، انگریزی زبان کی مہارت کے ٹیسٹ اور تعلیمی اسناد کی تصدیق کے عمل کو بھی مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ آسٹریلیا میں مقیم جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے رہنماؤں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک متوازن اور شفاف پالیسی اپنائے، تاکہ امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو روکا جا سکے لیکن اس عمل میں حقیقی اور مستند طلباء کا تعلیمی و پیشہ ورانہ مستقبل تاریک نہ ہو۔

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Original Source: Global Media (AI Translated)