آسٹریلیا نے بین الاقوامی طلباء کے لیے سٹوڈنٹ ویزا کے حصول کے قوانین کو انتہائی سخت کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے درخواست گزاروں کے لیے ویزا منظوری کی شرح میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، بھارتی اور دیگر علاقائی طلباء کے ویزا کی منظوری کی شرح 50 فیصد سے بھی نیچے گر گئی ہے۔ اس صورتحال نے آسٹریلیا میں مقیم جنوبی ایشیائی اور اردو بولنے والے تارکینِ وطن، نیز وہاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند خاندانوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
آسٹریلوی محکمہِ امیگریشن کی جانب سے متعارف کردہ نئی پالیسیوں میں انگریزی زبان کی مہارت کے کڑے معیارات اور مالیاتی پس منظر کی سخت جانچ پڑتال شامل ہے۔ نئی 'جینوئن سٹوڈنٹ' (Genuine Student) شرط کے تحت درخواست گزاروں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کا بنیادی مقصد تعلیم کا حصول ہے نہ کہ روزگار۔ حکومت کا یہ اقدام دراصل ملک میں ریکارڈ توڑ مائیگریشن کو کنٹرول کرنے اور مقامی ہاؤسنگ مارکیٹ پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کی ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
پاکستانی اور بھارتی تارکینِ وطن پر مشتمل کمیونٹی کے لیے یہ تبدیلیاں ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہی ہیں۔ بہت سے خاندان اپنے بچوں کے روشن مستقبل اور پوسٹ سٹڈی ورک (Post-Study Work) کے مواقع کی امید میں خطیر سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ تاہم، حالیہ ویزا مسترد ہونے کی بلند شرح کے باعث بنیادی شرائط پوری کرنے والے متعدد طلباء بھی متاثر ہو رہے ہیں، جس سے کمیونٹی میں شدید مایوسی اور مالی نقصان کا احساس پایا جاتا ہے۔
تعلیمی ماہرین اور کنسلٹنٹس نے جنوبی ایشیائی طلباء کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی ویزا درخواستوں کو انتہائی احتیاط سے مرتب کریں اور تمام مطلوبہ دستاویزات کو شفاف رکھیں۔ دوسری جانب آسٹریلوی یونیورسٹیاں بھی اس صورتحال پر نالاں ہیں کیونکہ بین الاقوامی طلباء کی تعداد میں کمی ان کے ریونیو (Revenue) کو براہِ راست متاثر کر سکتی ہے۔ موجودہ حالات کے پیشِ نظر، اردو بولنے والے تارکینِ وطن اور طلباء کو اب متبادل کے طور پر یورپ یا نارتھ امریکہ کی تعلیمی درسگاہوں پر بھی غور کرنا پڑ سکتا ہے۔
