ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Pakistan4 مئی، 20261 MIN READ

'ہم دباؤ کے سامنے جھکنے والی قوم نہیں': بلاول بھٹو کا معرکہ حق کی کامیابی کی یاد میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ سال بھارت کے ساتھ ہونے والے 'معرکہ حق' کی کامیابی کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کسی دباؤ کے سامنے جھکنے والا ملک نہیں اور اب ہماری پوری توجہ معاشی استحکام پر ہونی چاہیے۔

اس خبر میں حساس نوعیت کا مواد شامل ہو سکتا ہے۔

'ہم دباؤ کے سامنے جھکنے والی قوم نہیں': بلاول بھٹو کا معرکہ حق کی کامیابی کی یاد میں خطاب

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں حکومت سندھ کے زیر اہتمام 'معرکہ حق' کی یاد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان دباؤ کے سامنے جھکنے والی قوم نہیں ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال 2025 میں بھارت کے ساتھ ہونے والے فوجی تصادم کے دوران پاکستانی قوم کے اتحاد، مسلح افواج کی بہادری اور سفارت کاروں کی محنت کو شاندار خراج تحسین پیش کیا۔ اس تقریب میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی شرکت کی، جس کا مقصد 10 مئی کی جنگ بندی اور ملکی دفاع کی کامیابی کو منانا تھا۔

اپنے خطاب میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ یہ کامیابی صرف ہتھیاروں کی نہیں بلکہ قوم کے عزم اور اتحاد کی جیت تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تصادم یا جنگ کو فروغ نہیں دیتا، لیکن جب ملکی خودمختاری پر آنچ آئے تو پوری قوم ایک صف میں کھڑی ہو جاتی ہے۔ سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ فتح کا پیمانہ صرف علاقائی قبضے سے نہیں بلکہ ملکی وقار کے دفاع سے لگایا جاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملکی معیشت کو اس قدر مضبوط کیا جائے کہ کوئی بھی بیرونی دباؤ ہمارے مستقبل کا فیصلہ نہ کر سکے۔

واضح رہے کہ 'معرکہ حق' نامی یہ تنازع اپریل 2025 میں مقبوضہ کشمیر میں پہلگام حملے کے بعد شروع ہوا تھا، جس کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی سمیت کئی جارحانہ اقدامات کیے تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان فضائی حدود کی بندش اور تجارتی پابندیوں کے بعد نوبت فضائی حملوں تک پہنچ گئی تھی، جس میں پاکستان نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر کئی بھارتی طیارے مار گرائے تھے۔ بالآخر 10 مئی کو امریکی مداخلت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی طے پائی تھی اور اس دن کو اب 'یومِ معرکہ حق' کے طور پر منایا جاتا ہے۔

پاک بھارت کشیدگی اور اس طرح کے عسکری بیانیے کا براہ راست اثر بیرون ملک مقیم جنوبی ایشیائی تارکین وطن، بالخصوص اوورسیز پاکستانیوں کی زندگیوں پر پڑتا ہے۔ 2025 کے اس تصادم کے دوران فضائی حدود کی بندش، ویزا پابندیوں اور سفارتی کشیدگی نے تارکین وطن کے لیے اپنے آبائی ممالک کا سفر اور خاندانی رابطے شدید متاثر کیے تھے۔ بلاول بھٹو کی جانب سے پروقار امن، ملکی وقار اور معاشی ترقی پر دیا گیا زور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ایک مثبت پیشرفت ہے، کیونکہ خطے میں جیو پولیٹیکل استحکام ہی ان کے بلاتعطل سفر، محفوظ معاشی ترسیلات اور دیار غیر میں دونوں ممالک کی کمیونٹیز کے درمیان پرامن بقائے باہمی کا ضامن ہے۔

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Original Source: Dawn News (AI Translated)