برطانیہ کی دائیں بازو کی سیاسی جماعت 'ریفارم' نے ایک نیا اور متنازع سیاسی بیان جاری کیا ہے، جس کے تحت پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ گرین پارٹی کے اکثریتی علاقوں میں تارکینِ وطن اور مہاجرین کے لیے حراستی مراکز (Detention Centres) تعمیر کرے گی۔ اس متنازع اعلان نے برطانوی سیاسی حلقوں میں ایک نئی اور گرما گرم بحث چھیڑ دی ہے۔ گرین پارٹی کی جانب سے اس منصوبے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور اسے ووٹروں کی توجہ اصل مقامی اور ملکی مسائل سے ہٹانے کے لیے ایک 'گھناؤنی' اور نفرت انگیز سیاسی چال قرار دیا گیا ہے۔
اس سیاسی رسہ کشی کا براہ راست اور گہرا اثر برطانیہ میں مقیم لاکھوں جنوبی ایشیائی، بالخصوص پاکستانی اور اردو بولنے والے تارکین وطن کی زندگیوں پر پڑ رہا ہے۔ کمیونٹی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ سیاسی فوائد کے حصول کے لیے مہاجرین اور تارکینِ وطن کو اس طرح نشانہ بنانا معاشرے میں تفریق اور تعصب کو ہوا دے سکتا ہے۔ برطانوی ویزا کے حصول، ورک پرمٹ اور شہریت کے منتظر افراد میں یہ خوف پایا جا رہا ہے کہ ایسی بیان بازی مستقبل میں امیگریشن قوانین کو مزید سخت اور امتیازی بنا سکتی ہے۔
گرین پارٹی کا مؤقف ہے کہ ریفارم پارٹی جان بوجھ کر ان کے مضبوط انتخابی حلقوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے تاکہ انسانی حقوق اور ماحولیات کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کو دبایا جا سکے۔ سیاسی اور سماجی ماہرین کے مطابق، رہائشی علاقوں کے قریب ایسے حراستی مراکز کا قیام نہ صرف مقامی آبادی کے سکون کو متاثر کرے گا بلکہ برطانیہ کے بین الاقوامی انسانی حقوق کے وعدوں پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرے گا۔ گرین پارٹی نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ تارکین وطن کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن مزاحمت کرے گی۔
موجودہ کشیدہ سیاسی صورتحال کے پیشِ نظر، برطانیہ میں مقیم پاکستانی تارکینِ وطن اور اردو بولنے والی کمیونٹی کو مقامی کونسلز کے فیصلوں اور امیگریشن پالیسیوں پر کڑی نظر رکھنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی متعدد تنظیمیں متحرک ہو گئی ہیں تاکہ کسی بھی ایسی متعصبانہ پالیسی کو قانونی سطح پر روکا جا سکے جو قانونی یا غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے لیے خطرہ ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمیونٹی کے لیے اب یہ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ وہ مقامی سیاست میں اپنا مثبت کردار ادا کریں اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے متحد رہیں۔
