ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Pakistan6 مئی، 20261 MIN READ

بریتھ پاکستان کانفرنس: مصدق ملک کی یوتھ لیڈ ماحولیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی اپیل، تارکینِ وطن کے لیے نئے مواقع

اسلام آباد میں منعقدہ 'بریتھ پاکستان کانفرنس' میں موسمیاتی تبدیلیوں اور آبی بحران سے نمٹنے کے لیے کلائمیٹ فنانسنگ کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس صورتحال نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے مقامی سٹارٹ اپس اور گرین منصوبوں میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔

بریتھ پاکستان کانفرنس: مصدق ملک کی یوتھ لیڈ ماحولیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی اپیل، تارکینِ وطن کے لیے نئے مواقع

اسلام آباد میں منعقدہ ’بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمیٹ چینج کانفرنس‘ کے دوسرے ایڈیشن میں ماحولیاتی تبدیلی، آبی وسائل کی قلت اور کلائمیٹ فنانسنگ (climate financing) جیسے سنگین چیلنجز پر غور کیا گیا۔ وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی مصدق ملک اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سمیت دیگر عالمی ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کاربن کے اخراج میں نہ ہونے کے برابر حصہ ڈالنے کے باوجود شدید ماحولیاتی خطرات کی زد میں ہے۔ کانفرنس میں یوتھ لیڈ (youth-led) پراجیکٹس اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی حل تجویز کیے گئے، جن کا مقصد مقامی کمیونٹیز کو موسمیاتی آفات سے بچانا اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔

آبی امور کی ماہر ڈاکٹر ارم ستار اور وزیر آبی وسائل معین وٹو نے انڈس ڈیلٹا کے سکڑنے اور زراعت پر پڑنے والے منفی اثرات سے خبردار کیا۔ دریاؤں کے خشک ہونے اور زیرِ زمین پانی کی سطح گرنے سے نہ صرف پاکستان کی فوڈ سیکیورٹی (food security) کو خطرہ لاحق ہے، بلکہ اس کا براہِ راست اثر بیرونِ ملک مقیم ان لاکھوں اوورسیز پاکستانیوں پر بھی پڑتا ہے جو اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کے لیے ترسیلاتِ زر بھیجتے ہیں۔ مقامی زراعت اور معیشت کے متاثر ہونے سے تارکینِ وطن پر مالی بوجھ بڑھ رہا ہے، لہٰذا اس بحران سے نمٹنے کے لیے موثر واٹر مینجمنٹ (water management) اور سمارٹ اریگیشن (smart irrigation) جیسی ٹیکنالوجیز کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔

ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور ورلڈ بینک کے حکام نے کلائمیٹ فنانسنگ اور گرین بانڈز (green bonds) کی اہمیت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ یہ پیش رفت خاص طور پر مغربی ممالک اور مشرق وسطیٰ میں مقیم ساؤتھ ایشین ڈائسپورا (South Asian diaspora) کے لیے اہم ہے، جو اب کلائمیٹ ٹیک (climate tech)، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پر مبنی ارلی وارننگ سسٹمز (early warning systems) اور قابلِ تجدید توانائی کے سٹارٹ اپس (startups) میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کو اپنے ماحولیاتی اہداف حاصل کرنے کے لیے 550 ملین ڈالرز سے زائد کی ضرورت ہے، جس میں ڈائسپورا کی سرمایہ کاری ایک کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

کانفرنس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ محض بات چیت سے آگے بڑھ کر عملی اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ معاشی استحکام اور ماحولیاتی پالیسیوں کو یکجا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بیرونِ ملک بسنے والے پاکستانی، جو بین الاقوامی سطح پر جدید ٹیکنالوجی اور فنانس کے شعبوں میں متحرک ہیں، وہ اب محض امداد بھیجنے کے بجائے وینچر کیپٹل (venture capital) کے ذریعے پاکستان کے نوجوانوں کے ماحولیاتی منصوبوں کی سرپرستی کر سکتے ہیں۔ اس جامع نقطہ نظر سے نہ صرف پاکستان ماحولیاتی آفات کا بہتر مقابلہ کر سکے گا، بلکہ اوورسیز کمیونٹی کا اپنے وطن کے ساتھ معاشی اور سماجی رشتہ مزید مضبوط ہوگا۔

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Original Source: Dawn News (AI Translated)