ح
واپس خبروں پر جائیں
LIVE
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Pakistan6 مئی، 20261 MIN READ

بریتھ پاکستان کانفرنس: موسمیاتی تبدیلیوں اور زرعی معیشت پر اثرات، سمندر پار پاکستانیوں کے لیے تشویش

اسلام آباد میں منعقدہ 'بریتھ پاکستان' کانفرنس میں ملکی زراعت اور معیشت پر موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔ اس صورتحال نے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے بھی گہری تشویش پیدا کر دی ہے، جو اپنے آبائی علاقوں کی زرعی زمینوں اور خاندانی کفالت کے حوالے سے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔

بریتھ پاکستان کانفرنس: موسمیاتی تبدیلیوں اور زرعی معیشت پر اثرات، سمندر پار پاکستانیوں کے لیے تشویش
Live Updates
02:24 PMDawn News (AI Translated)

بریتھ پاکستان کانفرنس: موسمیاتی تبدیلیوں اور زرعی معیشت پر اثرات، سمندر پار پاکستانیوں کے لیے تشویش

اسلام آباد میں دوسری بین الاقوامی 'بریتھ پاکستان' (Breathe Pakistan) موسمیاتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں حکومتی عہدیداروں، ماہرین اور عالمی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کے زرعی شعبے اور معیشت کو لاحق سنگین خطرات کا جائزہ لینا تھا۔ وفاقی وزراء، بشمول وزیر خزانہ اور وزیر ماحولیات، نے واضح کیا کہ پاکستان عالمی کاربن اخراج میں انتہائی معمولی حصہ دار ہونے کے باوجود ماحولیاتی تباہی کے فرنٹ لائن پر موجود ہے۔ اس صورتحال نے ان لاکھوں تارکین وطن اور سمندر پار پاکستانیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، جن کا سرمایہ اور خاندانی جائیدادیں پاکستان کے دیہی اور زرعی علاقوں سے وابستہ ہیں۔

کانفرنس کے دوران ماہرین نے متنبہ کیا کہ سندھ اور دیگر صوبوں میں سیلاب، بے وقت بارشوں اور سکڑتے ہوئے ڈیلٹا کے باعث فوڈ سیکیورٹی (Food Security) کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ زرعی معیشت کو پہنچنے والا یہ نقصان براہ راست ان اوورسیز پاکستانیوں کو متاثر کر رہا ہے جو ترسیلات زر (Remittances) کے ذریعے اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں اور زرعی زمینوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ (UN)، ایشین ڈیولپمنٹ بینک (ADB) اور ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کے حکام نے اس بات پر زور دیا کہ فصلوں کی تباہی سے بچاؤ کے لیے مقامی سطح پر جدید اور پائیدار زرعی طریقوں کو اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے، تاکہ معاشی اور خاندانی سطح پر استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام کے مطابق، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 50 فیصد کمی کے حکومتی ہدف کو حاصل کرنے کے لیے 550 ملین ڈالر سے زائد کی کلائمیٹ فنانسنگ (Climate Financing) درکار ہے۔ اس وسیع تر مالیاتی خلا کو پر کرنے میں بیرون ملک مقیم پاکستانی اور بین الاقوامی سرمایہ کار کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ فنانس ماہرین اور بینکنگ سیکٹر کے رہنماؤں نے تجویز دی ہے کہ گرین بانڈز اور ماحول دوست انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ اس سے نہ صرف پاکستان کی ماحولیاتی لچک میں اضافہ ہوگا بلکہ سمندر پار پاکستانیوں کو اپنے ملک کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ایک منافع بخش اور محفوظ مالیاتی پلیٹ فارم بھی میسر آئے گا۔

ڈان میڈیا کے زیر اہتمام ہونے والے اس دو روزہ مباحثے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ موجودہ ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے محض پالیسیوں کی تشکیل کافی نہیں، بلکہ ان کے موثر نفاذ کی ضرورت ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) اور صوبائی حکومتوں کو مقامی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سیلاب اور خشک سالی کی قبل از وقت پیشین گوئی کی جا سکے۔ تارکین وطن پاکستانی کمیونٹی، جو جدید مغربی ممالک میں مؤثر موسمیاتی پالیسیوں کا مشاہدہ کرتی ہے، پاکستان میں بھی ایسی ہی شفافیت اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات کی توقع رکھتی ہے، تاکہ ان کے آبائی وطن کا ماحولیاتی اور معاشی مستقبل محفوظ رہ سکے۔

12:38 PMDawn News (AI Translated)

اسلام آباد میں 'بریتھ پاکستان' کانفرنس: ماحولیاتی بحران اور تارکینِ وطن کے لیے معاشی مضمرات

اسلام آباد میں منعقد ہونے والی دوسری 'بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمیٹ چینج کانفرنس' (Breathe Pakistan International Climate Change Conference) میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات اور ان کے تدارک پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ حکومتی وزراء اور بین الاقوامی ماہرین نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شدید معاشی اور زرعی نقصانات کا سامنا ہے۔ اس تشویشناک صورتحال نے دنیا بھر، بالخصوص امریکہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کے لیے بھی گہری فکرمندی پیدا کر دی ہے، کیونکہ ان کے آبائی علاقوں میں متواتر سیلاب اور غیر متوقع موسمی حالات کی وجہ سے ان کے اہل خانہ کی زندگیاں، رہائش اور ذرائع آمدن براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔

کانفرنس کے دوران ماہرین اور قانون سازوں نے اس حقیقت کو واضح کیا کہ دریائے سندھ کے طاس کا سکڑنا اور حالیہ برسوں کے تباہ کن سیلاب محض ماحولیاتی واقعات نہیں ہیں، بلکہ یہ ملکی فوڈ سیکیورٹی (Food Security) اور سپلائی چین (Supply Chain) کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ زراعت کا شعبہ، جو کہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تسلیم کیا جاتا ہے، سب سے زیادہ خطرے کی زد میں ہے۔ ان موسمیاتی آفات کے نتیجے میں مقامی سطح پر پیدا ہونے والا معاشی بحران سمندر پار پاکستانیوں پر بھی بالواسطہ مالی دباؤ بڑھاتا ہے، جنہیں ہنگامی حالات میں اپنے خاندانوں کی بحالی اور زرعی انفراسٹرکچر کے نقصانات کے ازالے کے لیے اضافی ترسیلات زر بھیجنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

اس اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران وفاقی وزراء نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتی سطح پر قانونی اور پالیسی فریم ورک کی کمی نہیں، بلکہ ان کے موثر نفاذ میں سیاسی اور سماجی ارادے کا فقدان ہے۔ وفاقی وزراء نے واضح کیا کہ مستقبل کے موسمیاتی خطرات سے بروقت نمٹنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (Artificial Intelligence) پر مبنی ارلی وارننگ سسٹمز اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔ مزید برآں، حکومت اور عوام کو مل کر مقامی اور بین الاقوامی سطح پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (Public-Private Partnership) کے ذریعے ایسے منصوبے شروع کرنے کی ضرورت ہے جو دیرپا ماحولیاتی استحکام کو یقینی بنا سکیں۔

اس عالمی چیلنج سے مستقل بنیادوں پر نمٹنے کے لیے کلائمیٹ فنانس (Climate Finance) اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی معاونت کو انتہائی کلیدی قرار دیا گیا۔ ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور ورلڈ بینک کے نمائندوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ ترقی پذیر ممالک کو اس بحران سے نکالنے کے لیے کثیر سرمایہ کاری درکار ہے۔ اس تناظر میں، بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی اور بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والے پروفیشنلز پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والے مقامی گرین سٹارٹ اپس (Startups) میں اپنا سرمایہ لگائیں اور اپنی تکنیکی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کو اس سنگین وجودی خطرے سے نکالنے میں اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔

10:32 AMDawn News (AI Translated)

اسلام آباد میں کلائمیٹ چینج کانفرنس: دریائے سندھ کے سکڑتے بیسن پر تشویش اور سمندر پار پاکستانیوں پر اثرات

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دوسری ’بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمیٹ چینج کانفرنس‘ (Breathe Pakistan International Climate Change Conference) کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملکی اور بین الاقوامی ماہرین نے دریائے سندھ کے بیسن کے تیزی سے سکڑنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آبی وسائل کے وفاقی وزیر اور دیگر حکام نے اس بات پر زور دیا کہ دریائے سندھ پاکستان کی لائف لائن ہے، لیکن شمال میں گلیشیئرز کے غیر متوقع پگھلاؤ اور ڈیلٹا کے سکڑنے کی وجہ سے ملک کی غذائی سلامتی اور معاشی استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

اس ماحولیاتی بحران کے اثرات مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور جنوبی ایشیائی ڈائسپورا پر بھی براہِ راست مرتب ہو رہے ہیں۔ سیلاب اور شدید خشک سالی جیسی ماحولیاتی آفات کی وجہ سے سمندر پار پاکستانیوں کی آبائی زمینوں، زرعی جائیدادوں اور خاندانی اثاثوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں ان پر ہنگامی امداد اور ترسیلاتِ زر (Remittances) بھیجنے کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ یہ صورتحال تارکینِ وطن کے لیے ایک معاشی اور سماجی چیلنج بن چکی ہے، جو اپنے آبائی وطن کے انفراسٹرکچر کی بقا کے حوالے سے فکرمند رہتے ہیں۔

کانفرنس کے دوران وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور موسمیاتی تبدیلی کے وزیر مصدق ملک نے ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہنگامی پالیسیوں کے بجائے سائنسی اور دیرپا حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ورلڈ بینک (World Bank)، ایشین ڈیولپمنٹ بینک (Asian Development Bank) اور گرین کلائمیٹ فنڈ (Green Climate Fund) کے نمائندوں نے ’کلائمیٹ فنانس‘ (Climate Finance) کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں پائیدار انفراسٹرکچر کی تعمیر ناگزیر ہے، جس میں اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے گرین پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ماہرین نے اس بات کی نشاندہی کی کہ عالمی کاربن اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، جس کی بنیاد پر ملک کو عالمی سطح پر ایک منفرد ’ایتھیکل لیوریج‘ (Ethical Leverage) حاصل ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر، حکومت نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والے ’سٹارٹ اپس‘ (Startups) اور ماحول دوست منصوبوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ ڈائسپورا کمیونٹی کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی اور سرمائے کے ذریعے اپنے وطن کو موسمیاتی آفات سے بچانے اور ایک محفوظ مستقبل کی تعمیر میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔

09:50 AMDawn News (AI Translated)

بریتھ پاکستان کانفرنس: مصدق ملک کی یوتھ لیڈ ماحولیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی اپیل، تارکینِ وطن کے لیے نئے مواقع

اسلام آباد میں منعقدہ ’بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمیٹ چینج کانفرنس‘ کے دوسرے ایڈیشن میں ماحولیاتی تبدیلی، آبی وسائل کی قلت اور کلائمیٹ فنانسنگ (climate financing) جیسے سنگین چیلنجز پر غور کیا گیا۔ وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی مصدق ملک اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سمیت دیگر عالمی ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کاربن کے اخراج میں نہ ہونے کے برابر حصہ ڈالنے کے باوجود شدید ماحولیاتی خطرات کی زد میں ہے۔ کانفرنس میں یوتھ لیڈ (youth-led) پراجیکٹس اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی حل تجویز کیے گئے، جن کا مقصد مقامی کمیونٹیز کو موسمیاتی آفات سے بچانا اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔

آبی امور کی ماہر ڈاکٹر ارم ستار اور وزیر آبی وسائل معین وٹو نے انڈس ڈیلٹا کے سکڑنے اور زراعت پر پڑنے والے منفی اثرات سے خبردار کیا۔ دریاؤں کے خشک ہونے اور زیرِ زمین پانی کی سطح گرنے سے نہ صرف پاکستان کی فوڈ سیکیورٹی (food security) کو خطرہ لاحق ہے، بلکہ اس کا براہِ راست اثر بیرونِ ملک مقیم ان لاکھوں اوورسیز پاکستانیوں پر بھی پڑتا ہے جو اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کے لیے ترسیلاتِ زر بھیجتے ہیں۔ مقامی زراعت اور معیشت کے متاثر ہونے سے تارکینِ وطن پر مالی بوجھ بڑھ رہا ہے، لہٰذا اس بحران سے نمٹنے کے لیے موثر واٹر مینجمنٹ (water management) اور سمارٹ اریگیشن (smart irrigation) جیسی ٹیکنالوجیز کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔

ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور ورلڈ بینک کے حکام نے کلائمیٹ فنانسنگ اور گرین بانڈز (green bonds) کی اہمیت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ یہ پیش رفت خاص طور پر مغربی ممالک اور مشرق وسطیٰ میں مقیم ساؤتھ ایشین ڈائسپورا (South Asian diaspora) کے لیے اہم ہے، جو اب کلائمیٹ ٹیک (climate tech)، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پر مبنی ارلی وارننگ سسٹمز (early warning systems) اور قابلِ تجدید توانائی کے سٹارٹ اپس (startups) میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کو اپنے ماحولیاتی اہداف حاصل کرنے کے لیے 550 ملین ڈالرز سے زائد کی ضرورت ہے، جس میں ڈائسپورا کی سرمایہ کاری ایک کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

کانفرنس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ محض بات چیت سے آگے بڑھ کر عملی اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ معاشی استحکام اور ماحولیاتی پالیسیوں کو یکجا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بیرونِ ملک بسنے والے پاکستانی، جو بین الاقوامی سطح پر جدید ٹیکنالوجی اور فنانس کے شعبوں میں متحرک ہیں، وہ اب محض امداد بھیجنے کے بجائے وینچر کیپٹل (venture capital) کے ذریعے پاکستان کے نوجوانوں کے ماحولیاتی منصوبوں کی سرپرستی کر سکتے ہیں۔ اس جامع نقطہ نظر سے نہ صرف پاکستان ماحولیاتی آفات کا بہتر مقابلہ کر سکے گا، بلکہ اوورسیز کمیونٹی کا اپنے وطن کے ساتھ معاشی اور سماجی رشتہ مزید مضبوط ہوگا۔

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Original Source: Dawn News (AI Translated)