کینیڈا کے Express Entry بیک لاگ میں ریکارڈ کمی، پروسیسنگ کی کارکردگی بہتر ہو گئی
ان ہزاروں خاندانوں کے لیے جو اپنی اسکرینوں کے سامنے بیٹھ کر اپنی زندگی بدل دینے والی ای میل کا انتظار کر رہے ہیں، کینیڈا کے امیگریشن بیک لاگ کا ختم ہونا صرف ایک اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک بند دروازے کے بالآخر کھلنے کی صدا ہے۔
The report is based on official data released by Immigration, Refugees and Citizenship Canada (IRCC), focusing on the government's internal performance targets and administrative milestones. While factually grounded in state disclosures, the narrative inherently adopts the government's framework for defining 'efficiency' and 'success'.

""Express Entry کا بیک لاگ 10 فیصد کی نئی ریکارڈ سطح تک کم ہو گیا ہے — جو کہ IRCC کے اس ماہ کے لیے متوقع 20 فیصد بیک لاگ سے کہیں کم ہے اور نومبر 2025 میں ریکارڈ کیے گئے 32 فیصد کے مقابلے میں ایک نمایاں بہتری ہے۔""
تفصیلی جائزہ
Express Entry بیک لاگ میں 10 فیصد تک کمی یہ ظاہر کرتی ہے کہ IRCC اپنے داخلی کارکردگی کے اہداف سے نمایاں طور پر بہتر کام کر رہا ہے، جو اس مدت کے لیے 20 فیصد متوقع تھے۔ یہ کارکردگی اس لیے اہم ہے کیونکہ اس سے ان ہنرمند افراد کی بے یقینی کا خاتمہ ہوتا ہے جو کینیڈا کی لیبر مارکیٹ کے لیے ضروری ہیں، اور ان صنعتوں میں استحکام آ سکتا ہے جہاں افرادی قوت کی کمی ہے۔ تاہم، ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ اب یہ بوجھ دوسری جگہ منتقل ہو رہا ہے؛ جہاں مستقل رہائش کا راستہ صاف ہو رہا ہے، وہیں ورک پرمٹ کے بیک لاگ میں اضافہ یہ بتاتا ہے کہ انتظامی مشینری عارضی اور مستقل امیگریشن کے معاملات کو متوازن رکھنے میں مشکل کا شکار ہے۔
ذرائع کے مطابق IRCC نے 1.2 ملین سے زیادہ درخواستوں پر کام کیا، جو کہ ایک بڑا لاجسٹک کارنامہ ہے۔ مختلف کیٹیگریز کے درمیان فرق—جہاں اسٹڈی پرمٹ تیزی سے پروسیس ہو رہے ہیں لیکن ورک پرمٹ پیچھے رہ گئے ہیں—یہ اشارہ دیتا ہے کہ عارضی مزدوروں کے مقابلے میں طلباء کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ایک عام درخواست گزار کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقل مستقبل کا یقین تو بڑھ رہا ہے، لیکن قانونی طور پر کام شروع کرنے کی صلاحیت اب بھی ایک پریشان کن رکاوٹ بنی ہوئی ہے کیونکہ 'انتظار' اب صرف ایک دوسری قسم کے پرمٹ میں منتقل ہو گیا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
کینیڈا کا امیگریشن سسٹم COVID-19 کی وبا کے دوران ایک بے مثال بحران کا شکار ہوا تھا، جب سرحدوں کی بندش اور دفاتر کی تالہ بندی کی وجہ سے کاغذی اور ڈیجیٹل درخواستوں کا ڈھیر لگ گیا تھا۔ 2022 کے وسط تک، یہ بیک لاگ 2.4 ملین سے زیادہ درخواستوں تک پہنچ گیا تھا، جس کی وجہ سے عوامی سطح پر شدید احتجاج ہوا اور IRCC کو ریکارڈز کو ڈیجیٹل کرنے اور اضافی عملہ بھرتی کرنے کے لیے کئی سال محنت کرنی پڑی۔
پچھلے چند سالوں میں، کینیڈا نے معاشی امیگریشن کے لیے 'Express Entry' کو اپنا بنیادی ذریعہ بنایا ہے، جسے پوائنٹس سسٹم کے ذریعے رفتار اور کارکردگی فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ حالیہ 10 فیصد کا ریکارڈ کم بیک لاگ اس دہائی بھر کی پالیسی تبدیلی کا نتیجہ ہے جس کا مقصد ڈیٹا پر مبنی امیگریشن مینجمنٹ ہے، تاکہ 2000 کی دہائی کے اوائل کے طویل انتظار کے دور کو ختم کر کے کینیڈا کو ڈیجیٹل ویزا پروسیسنگ میں دنیا بھر میں ممتاز کیا جا سکے۔
عوامی ردعمل
مجموعی تاثر محتاط امید کا ہے، کیونکہ حکومت یہ ثابت کر رہی ہے کہ وہ مستقل رہائشیوں کے لیے کارکردگی کے اہداف کو پورا کر سکتی ہے۔ تاہم، عارضی ورکرز میں بے چینی پائی جاتی ہے، کیونکہ ورک پرمٹ میں بڑھتا ہوا بیک لاگ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سسٹم اب بھی مقامی رکاوٹوں کا شکار ہے جو لوگوں کی زندگیوں اور کیریئر کو متاثر کر سکتی ہیں۔ سماجی حلقوں کو خدشہ ہے کہ ایک کیٹیگری میں 'ریکارڈ کمی' کے اعداد و شمار ورک پرمٹ کی تاخیر میں پھنسے لوگوں کی مشکلات کو چھپا سکتے ہیں۔
اہم حقائق
- •31 مارچ 2026 تک Express Entry درخواستوں کا بیک لاگ 10 فیصد کی کم ترین سطح پر آگیا، جو فروری میں 11 فیصد تھا۔
- •IRCC نے مجموعی طور پر 2,154,300 درخواستوں کی موجودگی کی رپورٹ دی، جن میں سے 935,000 کو بیک لاگ قرار دیا گیا اور 1,219,300 کو سرکاری سروس کے معیار کے مطابق نمٹا دیا گیا۔
- •جہاں مستقل رہائش اور اسٹڈی پرمٹ کے بیک لاگ میں کمی آئی، وہیں ورک پرمٹ کے بیک لاگ میں نمایاں اضافہ ہوا، جو ایک ماہ میں 27 فیصد سے بڑھ کر 34 فیصد ہو گیا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔