کینیڈا میں بیک لاگ میں ریکارڈ کمی: نئی زندگی کے منتظر خاندانوں اور پروفیشنلز کے لیے امید کی کرن
دنیا بھر میں ہزاروں پرامید خاندانوں کے لیے کینیڈا کے استقبال کا طویل اور بے چینی سے بھرا انتظار بالآخر کم ہونا شروع ہو گیا ہے کیونکہ سرکاری بیک لاگز تاریخی طور پر اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
This report synthesizes official IRCC data provided by a specialized immigration news source, which focuses on the administrative successes of permanent residency pathways while acknowledging ongoing challenges in temporary visa categories.

"ایکسپریس انٹری (Express Entry) بیک لاگ: صرف 10 فیصد تک گر گیا (جو فروری میں 11 فیصد تھا) - جب سے IRCC نے یہ ڈیٹا جاری کرنا شروع کیا ہے، یہ اب تک کی سب سے کم ترین سطح ہے۔"
تفصیلی جائزہ
ایکسپریس انٹری سسٹم میں بیک لاگ کی تیزی سے گرتی ہوئی شرح کینیڈا کی انتظامی کارکردگی میں تبدیلی کی علامت ہے، جو کورونا وبا کے جمود سے نکل کر اب ایک تیز رفتار پروسیسنگ انجن بن چکا ہے۔ ہزاروں ہنرمند ورکرز اور صوبائی نامزد امیدواروں کے لیے اس کا مطلب غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ اور کینیڈا کی معیشت میں جلد فعال کردار ادا کرنا ہے۔ تاہم، ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ جہاں مستقل راستے صاف ہو رہے ہیں، وہیں عارضی ورک پرمٹس کے بیک لاگ میں 7 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے لگتا ہے کہ سسٹم فوری لیبر ضروریات کے مقابلے میں طویل مدتی آباد کاری کو ترجیح دے رہا ہے۔
ایکسپریس انٹری بیک لاگ کو 10 فیصد تک لانے میں کامیابی IRCC کے لیے برسوں کی تنقید کے بعد ایک بڑی پالیسی جیت ہے۔ پھر بھی، وزٹر ویزا میں 46 فیصد بیک لاگ ایک بڑی رکاوٹ ہے جو خاندانوں کو شادیوں، پیدائشوں اور ہنگامی حالات میں ایک دوسرے سے دور رکھے ہوئے ہے۔ یہ اعداد و شمار کینیڈا کے امیگریشن تجربے کے دو رخ دکھاتے ہیں: مستقل رہائشیوں کے لیے ایک آسان اور تیز راستہ، جبکہ اپنے پیاروں سے ملنے کے خواہش مندوں کے لیے ایک سست اور بوجھ تلے دبا ہوا سسٹم۔
پس منظر اور تاریخ
کینیڈا کے امیگریشن سسٹم کو 2020-2022 کے دوران ایک بے مثال بحران کا سامنا کرنا پڑا، جب عالمی سفری پابندیوں اور دفاتر کی بندش کی وجہ سے غیر پروسیس شدہ فائلوں کا انبار لگ گیا تھا۔ اپنے عروج پر، یہ بیک لاگ سسٹم کی ناکامی کی علامت بن گیا تھا، جہاں کچھ درخواست گزاروں کو اپنی حیثیت کے بارے میں بنیادی اپ ڈیٹ کے لیے بھی برسوں انتظار کرنا پڑا۔ اس دوران کل درخواستوں کی تعداد 27 لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی، جس کے بعد حکومت نے ڈیجیٹلائزیشن اور نئے عملے کی بھرتی پر بھاری سرمایہ کاری کی۔
تاریخی طور پر، ایکسپریس انٹری کو 2015 میں 'پہلے آؤ، پہلے پاؤ' کے ماڈل سے ہٹ کر میرٹ کی بنیاد پر ایک موثر نظام کی طرف منتقل ہونے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ اگرچہ شروع میں چھ ماہ کے پروسیسنگ ٹائم کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن COVID-19 کے عروج پر ان معیارات کو ترک کر دیا گیا تھا۔ موجودہ 10 فیصد بیک لاگ کی کامیابی ایکسپریس انٹری سسٹم کے اصل وعدے کی واپسی ہے، جو تقریباً ایک دہائی میں پہلی بار ہے کہ محکمہ مستقل رہائش کے لیے اپنے ہی مقرر کردہ معیار سے بہتر نتائج دے رہا ہے۔
عوامی ردعمل
مجموعی طور پر، مستقل آباد کاری کے خواہش مند افراد کے لیے ایک محتاط پرامیدی کی فضا ہے، لیکن عارضی طور پر سفر کرنے والوں کے لیے مایوسی بھی موجود ہے۔ ایکسپریس انٹری کے ریکارڈ ساز نمبرز کو ہنرمند تارکین وطن کی جیت قرار دیا جا رہا ہے، لیکن ورک پرمٹس اور وزٹر ویزا میں تاخیر اب بھی بحث کا موضوع ہے۔ عالمی برادری میں ایک 'اطمینان آمیز بے چینی' محسوس کی جا رہی ہے کیونکہ وہ 'نادیدہ قطار' کو بالآخر آگے بڑھتا ہوا دیکھ رہے ہیں، مگر بہت سے لوگوں کے لیے انتظامی فتح اب بھی ایک نئے گھر کی اصل حقیقت سے دور ہے۔
اہم حقائق
- •31 مارچ 2026 تک، ایکسپریس انٹری درخواستوں کا بیک لاگ 10 فیصد کی ریکارڈ کمی تک پہنچ گیا، جو کہ حکومت کی 20 فیصد کی پیشگوئی سے کہیں بہتر کارکردگی ہے۔
- •IRCC کی انوینٹری میں درخواستوں کی کل تعداد 2,154,300 تھی، جن میں سے سروس کے معیار کے مطابق 935,000 کو بیک لاگ کے طور پر درجہ بندی کیا گیا تھا۔
- •اگرچہ مستقل رہائش (Permanent Residency) کے راستوں میں بہتری آئی، لیکن اسی عرصے کے دوران ورک پرمٹ کے بیک لاگ میں 27 فیصد سے 34 فیصد تک اضافہ ہوا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔