ح
India3 مئی، 2026

مغربی بنگال: کل 293 نشستوں پر ووٹوں کی گنتی، تنازعات اور دوبارہ پولنگ کے مطالبات کے سائے میں

مغربی بنگال میں انتخابی تشدد، ای وی ایم میں مبینہ گڑبڑ اور ہنگامہ آرائی کے واقعات کے بعد 77 پولنگ بوتھوں پر دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا گیا، جن میں سے 32 فالٹا کے تھے۔

مغربی بنگال: کل 293 نشستوں پر ووٹوں کی گنتی، تنازعات اور دوبارہ پولنگ کے مطالبات کے سائے میں

مغربی بنگال میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں جہاں کل 293 اسمبلی نشستوں پر ووٹوں کی گنتی کی جائے گی۔ یہ گنتی ایک ایسے ماحول میں ہونے جا رہی ہے جہاں انتخابی تشدد، ای وی ایم (الیکٹرانک ووٹنگ مشین) میں گڑبڑ کے الزامات اور کئی پولنگ بوتھوں پر دوبارہ پولنگ کے مطالبات نے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حکام کو پرامن اور منصفانہ گنتی یقینی بنانے کے لیے اضافی اقدامات کرنے پڑ رہے ہیں تاکہ نتائج پر عوام کا اعتماد قائم رہے۔

اطلاعات کے مطابق، انتخابات کے دوران ریاست بھر میں متعدد پرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں اور املاک کو نقصان پہنچانا شامل ہے۔ ان واقعات کے علاوہ، کئی مقامات پر ای وی ایم میں مبینہ گڑبڑ کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ ان سنگین شکایات کی بنا پر الیکشن کمیشن سے 77 پولنگ بوتھوں پر دوبارہ پولنگ کرانے کا مطالبہ کیا گیا، جن میں سے نمایاں 32 پولنگ بوتھ فالٹا کے علاقے میں واقع تھے۔

ان سنگین الزامات اور مطالبات کے پیش نظر، الیکشن کمیشن نے صورتحال کا بغور جائزہ لیا ہے۔ اگرچہ ووٹوں کی گنتی کل 293 نشستوں پر ہوگی، تاہم جن بوتھوں کے حوالے سے دوبارہ پولنگ کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں، ان پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ کمیشن نے انتخابی عمل کی دیانتداری کو برقرار رکھنے کے لیے سخت انتظامات کیے ہیں اور گنتی کے مراکز پر سکیورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور گنتی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو۔

اس حساس صورتحال میں، سیاسی حلقوں میں گہرا تناؤ پایا جاتا ہے اور تمام فریقین گنتی کے نتائج کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ الیکشن کمیشن تمام شکایات کا منصفانہ جائزہ لے گا اور انتخابی عمل کی شفافیت کو ہر قیمت پر یقینی بنائے گا۔ پرامن گنتی اور قابل اعتماد نتائج ہی ریاست میں جمہوری اقدار کو مضبوط کر سکتے ہیں اور عوام کے اعتماد کو بحال رکھ سکتے ہیں، جو کسی بھی جمہوری نظام کی بنیاد ہے۔

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Original Source: NDTV India (AI Translated)