ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
USA4 مئی، 20261 MIN READ

امریکہ میں ایچ ون بی (H-1B) ویزا پر نئی پابندیاں: جنوبی ایشیائی آئی ٹی ماہرین کے لیے خطرے کی گھنٹی

امریکی حکومت نے ایچ ون بی (H-1B) ویزا کے حوالے سے ایک نیا اور سخت بل متعارف کروانے پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس نئے قانون سے امریکہ میں مقیم ہزاروں پاکستانی اور بھارتی آئی ٹی ورکرز کا مستقبل اور ان کے روزگار کے مواقع شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔

امریکہ میں ایچ ون بی (H-1B) ویزا پر نئی پابندیاں: جنوبی ایشیائی آئی ٹی ماہرین کے لیے خطرے کی گھنٹی

امریکہ میں کام کرنے والے غیر ملکی ہنرمندوں بالخصوص آئی ٹی ورکرز کے لیے تشویش ناک خبر سامنے آئی ہے، جہاں ایچ ون بی (H-1B) ویزا کے قواعد کو مزید سخت کرنے کے لیے نیا بل لایا جا رہا ہے۔ اس مجوزہ کریک ڈاؤن کا مقصد امریکی شہریوں کے لیے ملازمتوں کا تحفظ کرنا ہے، تاہم اس کا سب سے زیادہ اثر جنوبی ایشیا، بالخصوص پاکستان اور بھارت سے تعلق رکھنے والے آئی ٹی پیشہ ور افراد پر پڑے گا۔ یہ ویزا پروگرام ہمیشہ سے امریکہ جانے کے خواہش مند ٹیکنالوجی کے ماہرین کے لیے ایک پرکشش اور بنیادی راستہ رہا ہے۔

اس نئے قانون کے تحت، ایچ ون بی ویزا کے حصول کے لیے کم از کم تنخواہ کی حد میں نمایاں اضافہ اور تعلیمی قابلیت کی جانچ کے معیار کو مزید سخت کیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، تھرڈ پارٹی کمپنیوں یا کنسلٹنسی فرمز کے ذریعے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین پر بھی کڑی نظر رکھی جائے گی۔ ان اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف نئے ویزا کے اجراء میں کمی آئے گی بلکہ وہ افراد جو پہلے ہی امریکہ میں اس ویزا پر کام کر رہے ہیں، ان کے لیے ویزا کی تجدید (Extension) کے مراحل انتہائی پیچیدہ ہو جائیں گے۔

امریکہ میں مقیم پاکستانی اور بھارتی تارکین وطن کی ایک بہت بڑی تعداد سلیکون ویلی، نیویارک اور دیگر ریاستوں میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہے۔ نئے قوانین کے نفاذ کی صورت میں ان تارکین وطن کے لیے نہ صرف ملازمتیں برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا، بلکہ ان کے اہل خانہ (H-4 ویزا ہولڈرز) کے قانونی اسٹیٹس اور کام کرنے کی اجازت پر بھی سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔ بہت سے پاکستانی جو برسوں سے گرین کارڈ کے انتظار میں ہیں، انہیں اپنے مستقل رہائشی منصوبوں کے حوالے سے شدید غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

امیگریشن کے ماہرین اور جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے رہنماؤں نے امریکی حکومت کے اس متوقع اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایسے سخت قوانین نہ صرف امریکہ کی اپنی ٹیکنالوجی انڈسٹری کو ہنر مند افراد سے محروم کر دیں گے بلکہ تارکین وطن کمیونٹی کو بھی مالی اور ذہنی دباؤ کا شکار کریں گے۔ موجودہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ امریکہ میں مقیم تارکین وطن اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے امیگریشن کے ماہرین سے مسلسل رابطے میں رہیں اور پیشگی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Original Source: Global Media (AI Translated)