ترکی کے شہر استنبول میں یوم مزدور کے موقع پر پرتشدد جھڑپوں کے بعد پولیس نے 500 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ مزدوروں اور ٹریڈ یونینوں نے اپنے حقوق کے دفاع میں ریلیاں نکالنے کی کوشش کی، جس کے دوران سیکیورٹی فورسز نے ان کے ساتھ سختی سے نمٹا۔ یہ کارروائی استنبول کے مختلف علاقوں میں کی گئی جہاں مظاہرین مرکزی چوکوں کی جانب بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ترکی میں یکم مئی کو یوم مزدور کا دن ہمیشہ سے کشیدگی کا شکار رہا ہے۔ خاص طور پر استنبول کا تاریخی تقسیم چوک (Taksim Square) مزدور حقوق کی تحریک کا ایک اہم مرکز رہا ہے، جہاں حکومت کی جانب سے اکثر اوقات عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ یہ پابندیاں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں، جبکہ مزدور تنظیمیں انہیں آزادی اظہار اور اجتماع کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ ہر سال، بھاری پولیس فورس کی تعیناتی اور گرفتاریاں ایک معمول بن چکی ہیں۔
ایسے واقعات ترکی میں مقیم جنوبی ایشیائی اور اردو بولنے والی کمیونٹی پر بھی گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ ان کمیونٹیز کے بہت سے افراد، خاص طور پر تعمیراتی شعبے اور دیگر محنت طلب کاموں میں، روزگار کے سلسلے میں ترکی آئے ہوئے ہیں۔ مزدور حقوق کے احتجاج پر کریک ڈاؤن اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں انہیں غیر محفوظ محسوس کراتی ہیں اور انہیں یہ خوف لاحق ہوتا ہے کہ وہ بھی کسی ناگہانی صورتحال کا شکار نہ ہو جائیں۔ یہ صورتحال بیرون ملک مقیم کارکنوں کے لیے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی آزادی کو محدود کرتی ہے اور انہیں محتاط رہنے پر مجبور کرتی ہے تاکہ وہ اپنے اقامہ یا ملازمت کو خطرے میں نہ ڈالیں۔
اس سال کی گرفتاریاں ایک بار پھر ترکی میں سول آزادیوں اور انسانی حقوق کی صورتحال پر سوالات کھڑے کرتی ہیں۔ یہ واقعات نہ صرف ملک کے اندر مزدوروں اور کارکنوں کے حوصلے پست کرتے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ترکی کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر نظرثانی کا باعث بنتے ہیں۔ حکومت اور مزدور تنظیموں کے درمیان یہ تنازعہ کئی دہائیوں سے جاری ہے اور اس کے حل کے لیے جامع مذاکرات کی ضرورت ہے تاکہ مزدوروں کے حقوق کا تحفظ بھی ہو سکے اور عوامی امن و امان بھی برقرار رہے۔
