ح
Pakistan3 مئی، 2026

بلوچستان میں مدارس پر چھاپے: جے یو آئی (ف) کا صوبائی احتجاج کا اعلان، حکومت کو سخت وارننگ

بلوچستان میں دینی مدارس پر حکومتی چھاپوں کے خلاف جمعیت علمائے اسلام (ف) نے شدید احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے 6 مئی کو صوبہ گیر ہڑتال اور 10 مئی کو کوئٹہ مارچ کی دھمکی دی ہے، مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ ان چھاپوں پر معافی مانگیں اور پالیسی تبدیل کریں۔

بلوچستان میں مدارس پر چھاپے: جے یو آئی (ف) کا صوبائی احتجاج کا اعلان، حکومت کو سخت وارننگ

بلوچستان میں دینی مدارس پر حکومتی چھاپوں نے صوبائی سیاست میں گرما گرمی پیدا کر دی ہے، جس کے بعد جمعیت علمائے اسلام (ف) نے حکومت کے خلاف ایک وسیع احتجاجی تحریک کا اعلان کیا ہے۔ جے یو آئی (ف) بلوچستان کے امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے واضح کیا ہے کہ دینی مدارس پر کارروائیاں ان کی "سرخ لکیر" ہیں اور انہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے 6 مئی کو صوبہ گیر ہڑتال اور 10 مئی کو کوئٹہ کی جانب طلباء اور کارکنان کے مارچ کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد حکومتی اقدامات کے خلاف عوامی دباؤ بڑھانا ہے۔ یہ صورتحال مقامی آبادی، خصوصاً تعلیم اور روزمرہ کے معمولات سے منسلک افراد کے لیے غیر یقینی اور تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔

مولانا عبدالواسع نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی مدارس پر چھاپوں پر معافی مانگیں اور متعلقہ نوٹیفکیشن واپس لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے مدارس کی رجسٹریشن کے لیے نافذ کردہ سوسائٹیز ایکٹ بھی کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے الیکشن میں دھاندلی اور ترقیاتی فنڈز کی روک تھام کے حکومتی اقدامات پر بھی سخت تنقید کی۔ جے یو آئی (ف) کے وفد سے ملاقات میں صوبائی وزراء کی جانب سے وزیراعلیٰ کی غیر موجودگی کا بہانہ بنا کر احتجاج مؤخر کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا۔ یہ صورتحال نہ صرف صوبائی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی بڑھا رہی ہے بلکہ مقامی کاروباری طبقے اور روزگار سے منسلک افراد کے لیے مشکلات کا سبب بھی بن سکتی ہے، جن کی زندگیاں ایسے احتجاجی مظاہروں سے براہ راست متاثر ہوتی ہیں۔

جے یو آئی (ف) نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو ان کے قانون ساز بلوچستان اسمبلی کے اندر بھرپور احتجاج کریں گے اور کارروائی میں خلل ڈالیں گے۔ اس کے علاوہ، پارٹی سربراہ مولانا فضل الرحمان 4 جون کو پشین میں ایک بڑی کانفرنس سے خطاب کریں گے، جو اس تحریک کو مزید تقویت دے گی۔ مولانا عبدالواسع نے 26ویں آئینی ترمیم کے تحت قومی اسمبلی سے منظور شدہ مدارس سے متعلق قانون کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اس پر عملدرآمد صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ یہ احتجاجی تحریک اگر شدت اختیار کرتی ہے تو بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال اور سماجی ہم آہنگی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کا براہ راست اثر عام شہریوں اور ان کے بچوں کے مستقبل پر پڑے گا۔

جے یو آئی (ف) نے وزیراعلیٰ بگٹی پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے انہیں دانشمندی سے کام لینے کی تلقین کی ہے۔ اس سیاسی کشیدگی کے نتائج صوبے کی مجموعی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ احتجاجی تحریکوں کے ذریعے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال مقامی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے، ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے، اور سب سے اہم یہ کہ عام شہریوں کی روزمرہ کی زندگی میں خلل ڈال کر ان کے لیے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ بلوچستان کی آبادی، بشمول اردو بولنے والی برادری، سیاسی استحکام اور امن و امان کی خواہاں ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل کی تعمیر کر سکیں۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو چاہیے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کریں تاکہ صوبے کو مزید سیاسی عدم استحکام سے بچایا جا سکے۔

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Original Source: Dawn News (AI Translated)