افریقی ملک نمیبیا نے اپنی سیاحت اور معیشت کو فروغ دینے کے لیے 2026 کی ایک جامع ٹورازم پالیسی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپی یونین کے متعدد ممالک سمیت 50 سے زائد ممالک کو 'ویزا آن ارائیول' کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس نئی پالیسی کا مقصد ونڈہوک، والوس بے اور مشہور صحرائی سفاری مقامات کی جانب غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد کو راغب کرنا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ ویزا کے عمل کو آسان بنانے سے ملک میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا اور مقامی معیشت کو سہارا ملے گا۔
اس نئی ویزا پالیسی کا براہ راست اور مثبت اثر مغربی ممالک میں مقیم ان لاکھوں پاکستانیوں اور جنوبی ایشیائی تارکین وطن پر پڑے گا جو امریکہ، برطانیہ، کینیڈا یا یورپی ممالک کی شہریت رکھتے ہیں۔ ماضی میں افریقی ممالک کا سفر دستاویزی پیچیدگیوں کے باعث قدرے مشکل سمجھا جاتا تھا، لیکن اب دوہری شہریت کے حامل اوورسیز پاکستانی بغیر کسی پیشگی ویزا کی جھنجھٹ کے نمیبیا کی سیاحت کر سکیں گے اور وہاں موجود نئے مواقع تلاش کر سکیں گے۔
نمیبیا میں کان کنی، زراعت، اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے، جو سرمایہ کاروں کے لیے خاصے پرکشش ہیں۔ مغربی ممالک میں مقیم جنوبی ایشیائی تاجر اور پروفیشنلز اب ویزا آن ارائیول کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے افریقی منڈیوں تک باآسانی رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر وہ تارکین وطن جو امپورٹ ایکسپورٹ اور سیاحتی کاروبار سے وابستہ ہیں، ان کے لیے سفری پابندیوں میں یہ نرمی افریقہ میں نئے تجارتی روابط قائم کرنے کے لیے ایک سنہری موقع ثابت ہو سکتی ہے۔
نمیبیا اپنے خوبصورت صحراؤں، منفرد جنگلی حیات اور قدرتی مناظر، بالخصوص 'ایتوشا نیشنل پارک' اور 'سوسوسولی' کے لیے عالمی سطح پر مشہور ہے۔ سفری ماہرین کے مطابق، 2026 کی اس سیاحتی توسیع سے نہ صرف ایوی ایشن انڈسٹری کو فائدہ ہوگا بلکہ تارکین وطن کے لیے بھی یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے، جو انہیں اپنے خاندانوں کے ہمراہ دنیا کے ان غیر روایتی اور دلفریب مقامات کی سیر کا ایک آسان اور بہترین متبادل فراہم کر رہی ہے۔
