امریکی محکمہ انصاف (DOJ) نے انکشاف کیا ہے کہ ایک بدنام زمانہ روسی رینسم ویئر (Ransomware) گینگ نے اپنے ملک کے سرکاری ڈیٹا بیسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں تک غیر قانونی رسائی حاصل کر رکھی تھی۔ اس گروہ کے ایک کارندے، لٹویا کے ہیکر (Hacker) ڈینس زولوٹارجیوس کو امریکی عدالت کی جانب سے حال ہی میں سائبر حملوں کے جرم میں آٹھ سال سے زائد قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ استغاثہ کے مطابق، اس سائبر کرمنل نیٹ ورک نے امریکی سرکاری اداروں کو نشانہ بنایا، جس میں ایمرجنسی ریسپانس سسٹمز کو معطل کرنا اور حساس طبی معلومات چرانا جیسی سنگین وارداتیں شامل ہیں۔
اس مقدمے کی تفصیلات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 'کاراکورٹ' نامی اس گینگ کے روسی حکومت اور افسران کے ساتھ گہرے روابط تھے۔ محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ گینگ نے حکومتی نظام میں موجود بدعنوانی کا بھرپور فائدہ اٹھایا، جس کے تحت اس کے سرغنہ ریاستی ٹیکس ادا کرنے سے بچتے رہے اور رشوت دے کر لازمی روسی فوجی سروس (Military Draft) سے بھی استثنیٰ حاصل کرتے رہے۔ یہ انکشافات اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ کس طرح بعض ممالک سائبر کرائم کو عالمی سطح پر بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں اور ہیکرز کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہے ہیں۔
امریکہ میں مقیم جنوبی ایشیائی اور بالخصوص اردو بولنے والے تارکین وطن کے لیے سائبر سیکیورٹی کی یہ مخدوش صورتحال گہری تشویش کا باعث ہے۔ چونکہ تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد امریکہ میں آئی ٹی (IT)، سائبر سیکیورٹی (Cybersecurity) اور ہیلتھ کیئر کے شعبوں میں کلیدی عہدوں پر فائز ہے، اس لیے ایسے منظم سائبر حملے براہ راست ان کے روزگار اور اداروں کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں۔ مزید برآں، امریکہ میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار چلانے والے تارکین وطن کو اب اپنے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے ڈیجیٹل سیکیورٹی اور کلاؤڈ سسٹمز پر مزید سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے تاکہ وہ اس طرح کے منظم مافیا کی بلیک میلنگ کا شکار نہ ہوں۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق، اس رینسم ویئر گینگ نے 54 سے زائد کمپنیوں کو نشانہ بناتے ہوئے ڈیڑھ کروڑ ڈالر سے زائد کا تاوان وصول کیا تھا۔ امریکی حکام مسلسل یہ انتباہ جاری کر رہے ہیں کہ سائبر کرائم امریکی قومی سلامتی اور معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اس لٹوین ہیکر کی گرفتاری اور سزا سے سائبر کرائم کے خلاف امریکی عزم کا اظہار ہوتا ہے، جبکہ یہ مقامی تارکین وطن کی زیر قیادت چلنے والے ٹیک اسٹارٹ اپس (Tech Startups) کے لیے بھی ایک انتباہ ہے کہ وہ اپنے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی حفاظت کو اولین ترجیح بنائیں۔
