پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے موجودہ حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ملک میں 'بے مثال معاشی اور انتظامی بحران' کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کی جانب سے معاشی استحکام کے دعوے 25 کروڑ پاکستانیوں اور ملک سے باہر بیٹھے تارکین وطن کے ساتھ ایک ظالمانہ مذاق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومتی سیٹ اپ نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے اور اس معاشی بدحالی کے باعث اوورسیز پاکستانیوں میں بھی وطن عزیز کے مستقبل اور اپنے اہل خانہ کی مالی سیکیورٹی کے حوالے سے گہری تشویش پائی جاتی ہے۔
ملک میں جاری ہوشربا مہنگائی کے باعث پاکستان میں مقیم خاندانوں کی کفالت کرنے والے اوورسیز پاکستانیوں پر ترسیلاتِ زر کا دباؤ غیر معمولی حد تک بڑھ گیا ہے۔ شیخ وقاص اکرم کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق کنزیومر پرائس انڈیکس میں 11 فیصد جبکہ حساس قیمتوں کے اشاریے میں 15 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 400 روپے فی لیٹر تک پہنچنے کے قریب ہیں، جبکہ بجلی کی قیمتیں 60 سے 80 روپے فی یونٹ تک جا پہنچی ہیں۔ آٹے اور روٹی سمیت بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث بیرون ملک مقیم محنت کشوں کو اپنے گھر والوں کا ماہانہ بجٹ پورا کرنے کے لیے مزید جدوجہد اور اوور ٹائم کرنا پڑ رہا ہے۔
پی ٹی آئی کے ترجمان نے پنجاب حکومت کی جانب سے گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر پابندی کو آئین کے آرٹیکل 151 کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے اس تشویشناک صورتحال کی جانب توجہ دلائی کہ پاکستان اب دنیا کے 10 سب سے زیادہ غذائی عدم تحفظ کے شکار ممالک میں شامل ہو چکا ہے، اور 1 کروڑ 10 لاکھ شہری شدید بھوک کے خطرے سے دوچار ہیں۔ خوراک کی درآمدات میں 2 ارب ڈالر کے ہوشربا اضافے نے معیشت پر مزید بوجھ ڈالا ہے جس سے حکومت کی کسی بھی ٹھوس فوڈ سیکیورٹی، توانائی یا ایکسپورٹ پالیسی کی عدم موجودگی واضح ہوتی ہے۔
حکومتی ٹیکس پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے پی ٹی آئی نے اسے 'دستاویزی معیشت کو سزا دینے اور طاقتور طبقات کو تحفظ دینے' کے مترادف قرار دیا اور گردشی قرضوں کا اربوں روپے کا بوجھ غریب عوام پر ڈالنے کی شدید مذمت کی۔ شیخ وقاص نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک شفاف جمہوری طرز حکمرانی، مضبوط ادارے اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلے نہیں کیے جاتے، تب تک حقیقی معاشی ترقی اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کا حصول ناممکن ہے۔ ملک میں جاری اس سیاسی و معاشی عدم استحکام اور واضح معاشی روڈ میپ کی کمی کے باعث اوورسیز پاکستانیوں کا مقامی مارکیٹ اور رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کا اعتماد بھی بری طرح مجروح ہو رہا ہے۔
