برطانیہ میں ایک معروف ٹیکنالوجی ماہر اور سٹارٹ اپ (Startup) بانی نے خبردار کیا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال سے دفتری اور پیشہ ورانہ ملازمتوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کارڈف (Cardiff) جیسے برطانوی شہروں میں کام کرنے والے 'وائٹ کالر' (White-collar) ملازمین براہ راست اس ٹیکنالوجی کے نشانے پر ہیں۔ اس بڑھتے ہوئے بحران کو قابو میں کرنے کے لیے انہوں نے تجویز دی ہے کہ اے آئی (AI) فرمز پر 'روبوٹس کی کم از کم اجرت' کے مساوی مالیاتی پابندیاں اور ٹیکس عائد کیے جانے چاہئیں تاکہ انسانی روزگار کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
حالیہ برسوں میں آٹومیشن اور اے آئی نے دفتری امور کی انجام دہی کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ ڈیٹا انٹری، کسٹمر سروس، اکاؤنٹنگ اور دیگر انتظامی فرائض اب انسانوں کے بجائے الگورتھمز اور سافٹ ویئرز کے ذریعے زیادہ تیزی سے انجام پا رہے ہیں۔ اس صورتحال میں ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بغیر کسی ضابطے کے کام کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی، تو بے روزگاری کے ایک نئے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مجوزہ 'روبوٹ ٹیکس' کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مشینوں سے حاصل ہونے والے منافع کا ایک حصہ بے روزگار ہونے والے انسانوں کی فلاح و بہبود اور ان کی ازسرنو تربیت پر خرچ کیا جائے۔
اس بدلتی ہوئی صورتحال کا براہ راست اور گہرا اثر برطانیہ اور یورپ میں مقیم تارکینِ وطن بالخصوص پاکستانی اور جنوبی ایشیائی کمیونٹی پر پڑ رہا ہے۔ ہزاروں اردو بولنے والے تارکینِ وطن برطانیہ کے مختلف شہروں میں آئی ٹی (IT)، فنانس اور انتظامی شعبوں سے وابستہ ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے ان 'وائٹ کالر' ملازمتوں میں ممکنہ کٹوتیاں اس کمیونٹی کے معاشی استحکام، ورک ویزا کی تجدید اور رہائشی معاملات کو شدید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔ برطانوی معیشت میں اپنا نمایاں کردار ادا کرنے والے ان تارکینِ وطن کے لیے اب یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ خود کو ان جدید چیلنجز کے لیے تیار کریں۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا زور اس بات پر ہے کہ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ لیبر قوانین میں جدت لائیں اور کمپنیوں کو اس بات کا پابند کریں کہ وہ اے آئی کو انسانوں کے مکمل متبادل کے بجائے ان کے معاون کے طور پر استعمال کریں۔ مزید برآں، تارکینِ وطن سمیت تمام پیشہ ور افراد کو مشین لرننگ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور دیگر جدید مہارتیں سیکھنے کی طرف راغب ہونا پڑے گا۔ اگر 'روبوٹس کی کم از کم اجرت' جیسی تجاویز کو قانونی شکل دی جاتی ہے، تو یہ نہ صرف مقامی معیشت کو سہارا دے گی بلکہ غیر ملکی ورکرز کے لیے بھی روزگار کے یکساں اور محفوظ مواقع کو یقینی بنائے گی۔
