ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Pakistan4 مئی، 20261 MIN READ

پاکستان کا مصنوعی ذہانت (AI) کی جانب فیصلہ کن قدم: کیا ملکی اور سمندر پار نوجوانوں کا مستقبل محفوظ ہو سکے گا؟

پاکستان نے 2030 تک مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور وسیع تربیتی پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، ماہرین کے مطابق اس پالیسی پر مؤثر عمل درآمد کے بغیر عالمی منڈی اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کے ثمرات حاصل کرنا ناممکن ہے۔

پاکستان کا مصنوعی ذہانت (AI) کی جانب فیصلہ کن قدم: کیا ملکی اور سمندر پار نوجوانوں کا مستقبل محفوظ ہو سکے گا؟

پاکستان نے مستقبل کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں 2030 تک ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور ملک گیر تربیتی پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ 'انڈس اے آئی ویک 2026' کے دوران پیش کیا گیا اسلام آباد اے آئی ڈیکلریشن اس بات کا غماز ہے کہ ملک اب اس ٹیکنالوجی کی دوڑ کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ یہ پیش رفت خاص طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور عالمی مارکیٹ میں نوکریاں تلاش کرنے والے تارکینِ وطن نوجوانوں کے لیے انتہائی اہم ہے، کیونکہ عالمی سطح پر ویزوں اور روزگار کے حصول کے لیے اے آئی کی مہارت اب ایک بنیادی شرط بن چکی ہے۔

اگرچہ جولائی 2025 میں منظور ہونے والا نیشنل آرٹیفیشل انٹیلیجنس پالیسی فریم ورک ایک خوش آئند قدم ہے، لیکن پاکستان کا اصل مسئلہ اعلانات نہیں بلکہ ان پر تسلسل کے ساتھ عمل درآمد کا فقدان ہے۔ موجودہ قانونی ڈھانچہ، جیسے سائبر کرائم ایکٹ، جدید جنریٹو اے آئی کے چیلنجز اور خودکار سسٹمز کی قانونی ذمہ داریوں (liability) کو سنبھالنے کے لیے ناکافی ہے۔ ان واضح قانونی اور ریگولیٹری ضوابط کی عدم موجودگی کی وجہ سے اوورسیز پاکستانی سرمایہ کار اور غیر ملکی ٹیک کمپنیاں پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر میں اپنا سرمایہ اور پروجیکٹس لانے سے ہچکچاتی ہیں۔

پاکستان کی 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے، جسے اگر جدید ٹیکنالوجی سے لیس نہ کیا گیا تو یہ عالمی سطح پر ہنر مندی کے فرق کو مزید بڑھا دے گا۔ بین الاقوامی اداروں (آئی ایل او، یونیسکو) کی جانب سے بھی افرادی قوت کو ری اسکل (reskill) کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی معاملہ ہونے کی وجہ سے نصاب میں ہم آہنگی کا شدید فقدان ہے۔ اگر نصاب کو عالمی معیار کے مطابق نہ ڈھالا گیا تو مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکہ میں اپنا کیریئر بنانے کے خواہشمند پاکستانی نوجوانوں کو بین الاقوامی سطح پر شدید مسابقت اور بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ محض سرٹیفکیشن کے بجائے عملی مہارت کی تربیت دی جائے اور پرائیویٹ سیکٹر کو بھی اس عمل کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ دیہی اور پسماندہ علاقوں تک اس ٹیکنالوجی کی رسائی یقینی بنائے تاکہ ترقی کے مساوی مواقع مل سکیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی تکنیکی مہارت کو ملک میں متعارف کروا کر اس تعلیمی خلا کو پر کیا جا سکتا ہے۔ اگر آج مربوط، تیز ترین اور درست فیصلے نہ کیے گئے، تو پاکستان عالمی اے آئی کی دوڑ میں اس قدر پیچھے رہ جائے گا جس کے معاشی نقصانات کا ازالہ آنے والی کئی نسلوں تک ممکن نہیں ہوگا۔

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Original Source: Dawn News (AI Translated)