مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کے پیش نظر تیل کی عالمی قیمتوں میں مسلسل اضافہ پاکستان کی معیشت کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، اگر یہ صورتحال برقرار رہتی ہے تو ملک میں افراط زر (مہنگائی) دوہرے ہندسے میں رہنے کا امکان ہے، جبکہ بڑھتے ہوئے اخراجات اور درآمدات میں خلل ملک کے بیرونی مالیاتی توازن پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ یہ صورتحال بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے، کیونکہ پاکستان میں معاشی عدم استحکام ان کے اہل خانہ پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے اور مالی امداد (ریمٹنس) بھیجی جانے والی رقم کی قدر میں کمی کا خدشہ پیدا کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے افراط زر کی اوسط شرح 9 سے 10 فیصد رہ سکتی ہے، اور مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں یہ 11 فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کی وجہ سے ملکی اقتصادی ترقی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مالی سال 2027 کے لیے پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کا تخمینہ 4.0 فیصد سے کم کر کے 2.5-3.0 فیصد کر دیا ہے۔ پاکستان میں سست معاشی ترقی نہ صرف روزگار کے مواقع کم کرتی ہے بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اپنے ملک میں سرمایہ کاری کے امکانات کو بھی محدود کرتی ہے، جس سے نئے روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانے والے افراد پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
مالیاتی محاذ پر، مالی سال 2027 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (CAD) 3.5 بلین ڈالر سے کم رہنے کی توقع ہے، مگر درآمدات پر کنٹرول میں نرمی اسے 8 بلین ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ پڑے گا۔ حکومتی مداخلت کے بغیر، روپے کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے جو تاریخی اوسط 5-6 فیصد سے زیادہ ہو سکتا ہے۔ روپے کی قدر میں کمی کا براہ راست اثر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر پڑتا ہے جو اپنے خاندانوں کو رقم بھیجتے ہیں؛ اگرچہ انہیں زیادہ پاکستانی روپے ملتے ہیں، مگر پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اس فائدے کو زائل کر دیتا ہے۔ یہ صورتحال انہیں اپنے اہل خانہ کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید رقم بھیجنے پر مجبور کر سکتی ہے۔
تیل کی بلند قیمتوں اور علاقائی کشیدگی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) بھی متاثر ہوئی ہے، جو رواں سال کے اوائل میں عالمی سطح پر بدترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹوں میں سے ایک رہی ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی 85 فیصد ضروریات درآمد کرتا ہے، جس سے اس کی معیشت عالمی تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے لیے انتہائی حساس ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2027 میں ترسیلات زر (remittances) میں 3.5 فیصد کمی کا امکان ہے، جبکہ برآمدات میں بھی 4 فیصد گراوٹ متوقع ہے۔ یہ تمام عوامل بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ایک پریشان کن منظرنامہ پیش کرتے ہیں، کیونکہ پاکستان کی معاشی کمزوری نہ صرف ان کے اپنے مستقبل کے منصوبوں کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ ان کی کمیونٹی پر بھی دباؤ ڈال سکتی ہے کہ وہ اپنے وطن کی مدد کے لیے مزید اقدامات کریں۔
