سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں یورپی یونین سے درآمد کی جانے والی کاروں پر ٹیرف میں نمایاں اضافے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ موجودہ 15 فیصد ٹیرف کو بڑھا کر 25 فیصد تک لے جائیں گے، جو گزشتہ جولائی میں طے پانے والے تجارتی معاہدے کے تحت لاگو ہے۔ یہ اعلان عالمی تجارتی تعلقات میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے اور امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی جنگ کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ اقدام ان کی 'امریکہ فرسٹ' پالیسی کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے جس کا مقصد امریکی صنعتوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس ٹیرف میں اضافے کے کئی اقتصادی مضمرات ہو سکتے ہیں۔ یورپی کار ساز کمپنیاں جو امریکہ میں اپنی مصنوعات فروخت کرتی ہیں، انہیں بھاری ٹیکسز کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کے نتیجے میں ان کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا اور امریکی صارفین کے لیے یورپی کاریں مزید مہنگی ہو جائیں گی۔ اس سے نہ صرف یورپی یونین کی برآمدات متاثر ہوں گی بلکہ امریکی صارفین کی قوت خرید پر بھی منفی اثر پڑے گا۔ یہ اقدام عالمی سپلائی چینز میں خلل ڈال سکتا ہے اور آٹو انڈسٹری میں ملازمتوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، کیونکہ کمپنیاں پیداوار اور فروخت کے اہداف پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوں گی۔
امریکہ اور یورپی ممالک میں مقیم جنوبی ایشیائی اور اردو بولنے والے تارکین وطن کے لیے یہ خبر اہم معاشی اثرات کی حامل ہو سکتی ہے۔ کاروں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ان کے بجٹ پر براہ راست بوجھ ڈالیں گی، خواہ وہ نئی گاڑی خریدنا چاہیں یا پرانی گاڑیوں کی مرمت اور دیکھ بھال پر زیادہ خرچ کریں۔ اگر آٹو انڈسٹری میں ملازمتوں میں کمی واقع ہوتی ہے تو اس سے تارکین وطن کی روزگار کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں، خاص طور پر وہ جو مینوفیکچرنگ، سروسنگ یا لاجسٹکس کے شعبوں سے وابستہ ہیں۔ مزید برآں، تجارتی کشیدگی کی وجہ سے عالمی معیشت میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ترسیلات زر (remittances) پر بھی اثر پڑ سکتا ہے جو بہت سے تارکین وطن اپنے آبائی وطن بھیجتے ہیں۔
ٹیرف میں یہ مجوزہ اضافہ صرف کاروں کی صنعت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ وسیع تر عالمی تجارتی پالیسیوں پر بھی اثرانداز ہوگا۔ یورپی یونین کی جانب سے جوابی کارروائی کا بھی امکان ہے، جس سے دونوں بلاکس کے درمیان تجارتی تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ ایسے اقدامات عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کے اصولوں پر بھی سوال اٹھاتے ہیں اور دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال قائم کر سکتے ہیں کہ وہ تجارتی تنازعات کو حل کرنے کے لیے ٹیرف کو بطور ہتھیار استعمال کریں۔ یہ صورتحال عالمی منڈیوں میں غیر یقینی کی کیفیت پیدا کرے گی، جس کا اثر کاروباری سرمایہ کاری اور مجموعی معاشی ترقی پر بھی پڑ سکتا ہے، اور تارکین وطن کی معاشی پوزیشن کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔
