مغربی بنگال میں حالیہ ضمنی انتخابات کے دوران سنگین انتخابی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جہاں الیکشن کمیشن کی ایک رپورٹ میں ووٹنگ کے عمل کو متاثر کرنے کے حیران کن طریقوں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، الیکٹرانک ووٹنگ مشینز (EVMs) پر ٹیپ لگا کر ووٹ ڈالنے میں رکاوٹ ڈالی گئی، اور ووٹرز کو تلاش کرنے کے لیے ایک خاص خوشبو کا استعمال کیا گیا۔ یہ واقعات ہندوستان کے جمہوری نظام کی بنیادوں پر سوال اٹھاتے ہیں اور انتخابی عمل کی شفافیت پر گہرے خدشات کو جنم دیتے ہیں۔
الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں بڑے پیمانے پر بوتھ کیپچرنگ کے الزامات کو نمایاں کیا گیا ہے۔ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشنوں پر زبردستی قبضہ کیا گیا جہاں حقیقی ووٹرز کو یا تو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا یا انہیں دھمکیوں اور خوف و ہراس کے ہتھکنڈوں کے ذریعے مخصوص امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالنے پر مجبور کیا گیا۔ ان حربوں میں ووٹرز کو نشان زد کرنے کے لیے نامعلوم خوشبو کا استعمال اور ای وی ایمز کے بٹنوں پر ٹیپ لگا کر انہیں غیر فعال کرنا شامل تھا۔ یہ حربے نہ صرف انتخابی عمل کی شفافیت کو مجروح کرتے ہیں بلکہ ووٹرز کے بنیادی حق رائے دہی کی بھی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
یہ خبر دنیا بھر میں مقیم جنوبی ایشیائی، بالخصوص بنگالی اور اردو بولنے والے تارکین وطن کے لیے گہری تشویش کا باعث ہے۔ وہ اپنے وطن میں ہونے والے انتخابی دھاندلیوں کو گہری نظر سے دیکھتے ہیں، کیونکہ ان کے اہل و عیال اور مالی مفادات اکثر اس خطے سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اپنے آبائی وطن میں جمہوری عمل کی کمزوری انہیں یہ یاد دلاتی ہے کہ کیوں بہت سے لوگ بہتر سیاسی اور سماجی استحکام کی تلاش میں ہجرت پر مجبور ہوئے۔ ایسی خبریں ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہیں اور انہیں اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں مزید فکرمند کرتی ہیں، خاص طور پر جب وہ اپنے گھروں کی سیاسی صورتحال کو بیرونی دنیا میں پیش کرتے ہیں تو انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے ان الزامات کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔ یہ نہ صرف جمہوری نظام کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ہے بلکہ عالمی سطح پر ہندوستان کی ساکھ کو بھی بہتر بنانے میں مدد دے گا۔ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ایک ایسے مضبوط اور ترقی پسند ملک کی پہچان ہے جس پر اس کی عالمی برادری اور اس کے اپنے تارکین وطن فخر کر سکیں۔ ان اقدامات سے ہی ووٹرز کا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے اور جمہوریت کی مضبوطی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
