ح
USA1 مئی، 2026

پینٹاگون کا خفیہ نیٹ ورکس پر مصنوعی ذہانت کے نفاذ کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں سے معاہدہ

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے خفیہ نیٹ ورکس پر مصنوعی ذہانت (AI) کے ماڈلز کو تعینات کرنے کے لیے Nvidia، Microsoft، Amazon Web Services اور Reflection AI کے ساتھ معاہدے کیے ہیں۔ یہ معاہدے Anthropic کے ساتھ AI ماڈلز کے استعمال کی شرائط پر ہونے والے تنازعے کے بعد AI وینڈرز کو متنوع بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

پینٹاگون کا خفیہ نیٹ ورکس پر مصنوعی ذہانت کے نفاذ کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں سے معاہدہ

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ اس نے مصنوعی ذہانت (AI) کی ٹیکنالوجی اور ماڈلز کو اپنے خفیہ نیٹ ورکس پر تعینات کرنے کے لیے Nvidia، Microsoft، Amazon Web Services اور Reflection AI کے ساتھ اہم معاہدے کیے ہیں۔ یہ اقدام امریکہ کو 'AI-first fighting force' یعنی مصنوعی ذہانت پر مبنی جنگی قوت بنانے کی طرف ایک تیزی سے بڑھتا ہوا قدم ہے، جس کا مقصد امریکی جنگی اہلکاروں کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کو تمام میدانوں میں برقرار رکھنا ہے۔ اس سے قبل پینٹاگون گوگل، اسپیس ایکس اور اوپن اے آئی کے ساتھ بھی ایسے معاہدے کر چکا ہے۔

ان معاہدوں کی ضرورت امریکی محکمہ دفاع کے AI وینڈرز کی تنوع کو تیز کرنے کی پالیسی کے تناظر میں پیش آئی ہے۔ Anthropic نامی ایک AI کمپنی کے ساتھ AI ماڈلز کے استعمال کی شرائط پر ہونے والے حالیہ تنازعے کے بعد پینٹاگون نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ پینٹاگون ان کے AI ٹولز کا غیر محدود استعمال چاہتا تھا جبکہ Anthropic نے اپنی ٹیکنالوجی کو گھریلو بڑے پیمانے پر نگرانی اور خود مختار ہتھیاروں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے حفاظتی تدابیر پر اصرار کیا تھا۔ یہ تنازعہ فی الحال عدالت میں جاری ہے۔

ان کمپنیوں کے AI ہارڈ ویئر اور ماڈلز کو 'Impact Level 6 (IL6)' اور 'Impact Level 7 (IL7)' کے ماحول میں تعینات کیا جائے گا، جو قومی سلامتی کے لیے اہم ڈیٹا اور معلوماتی نظاموں کے لیے اعلیٰ ترین حفاظتی درجہ بندی ہیں۔ ان کا مقصد ڈیٹا کی ترکیب کو آسان بنانا، صورتحال کی سمجھ کو بہتر بنانا اور جنگی اہلکاروں کی فیصلہ سازی میں اضافہ کرنا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق، 1.3 ملین سے زیادہ اہلکار پہلے ہی اس کے محفوظ انٹرپرائز پلیٹ فارم 'GenAI.mil' کا استعمال کر چکے ہیں، جو غیر خفیہ کاموں جیسے تحقیق، دستاویزات کی مسودہ سازی اور ڈیٹا تجزیہ میں مدد فراہم کرتا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے مصنوعی ذہانت میں یہ بھاری سرمایہ کاری عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی دوڑ اور فوجی حکمت عملی میں AI کے بڑھتے ہوئے کردار کو واضح کرتی ہے۔ جنوبی ایشیائی اور اردو بولنے والی تارکین وطن کی کمیونٹی کے لیے، خاص طور پر جو امریکہ اور دیگر ممالک میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں، یہ پیشرفت AI کی مہارت کی بڑھتی ہوئی مانگ کو نمایاں کرتی ہے۔ اس سے سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا اینالیٹکس اور AI ڈیویلپمنٹ جیسے شعبوں میں نئے کیریئر کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ مزید براں، امریکہ کی بڑھتی ہوئی تکنیکی صلاحیتیں عالمی استحکام اور جیو پولیٹیکل منظرنامے پر اثرانداز ہو سکتی ہیں، جس سے تارکین وطن کی کمیونٹیز کے لیے ان کے آبائی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات اور سیکیورٹی کے تصورات بالواسطہ طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ پیشرفت تمام متعلقہ افراد کے لیے ٹیکنالوجی کے بدلتے رجحانات سے باخبر رہنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Original Source: TechCrunch (AI Translated)