بھارت کی 76 فیصد آبادی کو شدید گرمی کے خطرات، ہیٹ انشورنس کی مانگ میں اضافہ
'Warm nights' (گرم راتوں) کی بڑھتی ہوئی شدت بھارت میں عوامی صحت کا ایک بڑا مسئلہ بن کر ابھر رہی ہے، کیونکہ نمی اور رات کے زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے ا...
This report is based on statistical findings from the Council on Energy, Environment and Water (CEEW) and the National Disaster Management Authority (NDMA), focusing on climate risk data and emerging financial solutions like parametric insurance.

تفصیلی جائزہ
'Warm nights' (گرم راتوں) کی بڑھتی ہوئی شدت بھارت میں عوامی صحت کا ایک بڑا مسئلہ بن کر ابھر رہی ہے، کیونکہ نمی اور رات کے زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے انسانی جسم سورج ڈھلنے کے بعد ٹھنڈا نہیں ہو پاتا۔ یہ صورتحال Delhi، Mumbai اور Bengaluru جیسے بڑے شہروں میں 'Urban Heat Island' اثر کی وجہ سے مزید سنگین ہو رہی ہے، جہاں کنکریٹ کا ڈھانچہ گرمی کو جذب کر لیتا ہے، جس سے ہیٹ اسٹروک کے واقعات میں اضافہ اور مزدوروں کی کام کرنے کی صلاحیت میں کمی واقع ہوتی ہے۔
اگرچہ CEEW پیرا میٹرک انشورنس کو ایک ضروری تحفظ قرار دیتا ہے، لیکن روایتی امدادی کاموں سے مارکیٹ پر مبنی انشورنس کی طرف منتقلی اب بھی ایک چیلنج ہے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ خودکار نظام مزدوروں کو فوری مالی مدد فراہم کرتا ہے، جبکہ ناقدین مقامی ویدر اسٹیشنز کی کمی اور انشورنس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں (premiums) کی طرف اشارہ کرتے ہیں کیونکہ شدید گرمی اب ہر سال کا معمول بنتی جا رہی ہے۔
عوامی ردعمل
ایڈیٹوریل کا لہجہ ماحولیاتی تشویش اور فوری اقدامات کی ضرورت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ شدید گرمی اب صرف ایک موسمی واقعہ نہیں بلکہ ایک بڑا معاشی خطرہ ہے۔ عوامی ردعمل کے مطابق، کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدوروں کی حالتِ زار اور آمدنی کے نقصان کو بچانے کے لیے نئے مالیاتی حل تلاش کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
اہم حقائق
- •Council on Energy, Environment and Water (CEEW) کی ایک رپورٹ کے مطابق، بھارت کے 57 فیصد اضلاع، جہاں 76 فیصد آبادی مقیم ہے، اب شدید گرمی کے 'ہائی ٹو ویری ہائی' خطرے کی زد میں ہیں۔
- •National Disaster Management Authority (NDMA) نے بھارت کی 23 ایسی ریاستوں کی نشاندہی کی ہے جہاں موسم گرما کے دوران درجہ حرارت باقاعدگی سے خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے۔
- •Parametric heat insurance میں خودکار ادائیگیوں (automated payouts) کا نظام استعمال ہوتا ہے، جو اس وقت کام کرتا ہے جب ویدر اسٹیشنز پر درجہ حرارت مقررہ حد سے تجاوز کر جائے؛ اس کا مقصد خاص طور پر تعمیرات اور زراعت سے وابستہ مزدوروں کی مدد کرنا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔