انڈیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان طے پانے والے نئے فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) نے دونوں ممالک کے تجارتی اور تعلیمی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔ اس معاہدے کی سب سے نمایاں خصوصیت انڈین طلباء کے لیے پوسٹ سٹڈی ورک ویزا پر موجود کیپ (cap) یا عددی حد کا خاتمہ ہے۔ اس اقدام کے بعد نیوزی لینڈ کی جامعات سے فارغ التحصیل ہونے والے انڈین طلباء کو بغیر کسی پابندی کے وہاں کام کرنے اور اپنا کریئر بنانے کا موقع ملے گا، جو کہ تارکینِ وطن کے لیے ایک انتہائی مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔
جنوبی ایشیائی کمیونٹی اور بالخصوص انڈین ڈائسپورہ کے لیے یہ معاہدہ طویل المدتی معاشی اور سماجی فوائد کا حامل ہے۔ نیوزی لینڈ میں مقیم انڈین کمیونٹی پہلے ہی وہاں کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، اور اس نئی پالیسی سے ہنرمند نوجوانوں کو بین الاقوامی سطح پر روزگار حاصل کرنے میں مزید آسانیاں پیدا ہوں گی۔ پوسٹ سٹڈی ورک ویزا کی شرائط میں نرمی سے نہ صرف طلباء کا معاشی مستقبل محفوظ ہوگا بلکہ نیوزی لینڈ کو بھی مختلف شعبوں میں درپیش لیبر شارٹیج (labor shortage) پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
فری ٹریڈ ایگریمنٹ میں ورک ویزا کے علاوہ دیگر اہم شقیں بھی شامل کی گئی ہیں جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان پروفیشنلز اور سکلڈ ورکرز (skilled workers) کی نقل و حرکت کو ہموار بنانا ہے۔ ان میں ویزا پروسیسنگ کے نظام کو تیز تر کرنا اور مختلف پیشوں سے وابستہ افراد کے لیے امیگریشن کے عمل کو آسان بنانا شامل ہے۔ اس سے آئی ٹی (IT)، انجینئرنگ اور ہیلتھ کیئر جیسے شعبوں سے تعلق رکھنے والے انڈین پروفیشنلز براہِ راست مستفید ہوں گے اور ان کے لیے نیوزی لینڈ کے لیبر مارکیٹ تک رسائی مزید سہل ہو جائے گی۔
یہ معاہدہ عالمی سطح پر امیگریشن پالیسیوں کے حوالے سے ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایک طرف جہاں کئی مغربی ممالک امیگریشن کے قوانین کو سخت کر رہے ہیں، وہیں نیوزی لینڈ کا یہ لچکدار رویہ جنوبی ایشیائی ممالک کے لیے ایک پرکشش متبادل پیش کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اسٹریٹجک اور تعلیمی سطح پر اس قسم کے معاہدے نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ بیرونِ ملک مقیم کمیونٹیز کے معیارِ زندگی اور ان کے حقوق کے تحفظ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
