ایک حالیہ جامع اقتصادی رپورٹ کے مطابق، بھارت بیرون ملک مقیم اپنے محنت کشوں اور پیشہ ور افراد سے ترسیلات زر (Remittances) وصول کرنے والے ممالک کی عالمی فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ، امریکہ اور یورپ میں مقیم لاکھوں بھارتی اور دیگر جنوبی ایشیائی تارکین وطن اپنے آبائی ممالک کی معیشت کو سہارا دینے میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے جاری کردہ ان رپورٹس نے بین الاقوامی معیشت میں جنوبی ایشیائی ڈائسپورا (Diaspora) کی معاشی اہمیت اور اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔
بیرون ملک بالخصوص خلیجی ممالک اور مغربی دنیا میں روزگار کے سلسلے میں مقیم جنوبی ایشیائی تارکین وطن کی بڑی تعداد مستقل بنیادوں پر ترسیلات زر کے ذریعے اپنے خاندانوں کی مالی کفالت کرتی ہے۔ ان افراد میں انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) اور صحت کے شعبے سے وابستہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہرین سے لے کر تعمیراتی اور خدماتی شعبوں میں کام کرنے والے محنت کش تک شامل ہیں۔ یہ بھیجی جانے والی رقوم نہ صرف ان کے زیر کفالت افراد کے معیار زندگی اور قوت خرید کو بہتر بناتی ہیں بلکہ آبائی ممالک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی خاطر خواہ اضافہ کرتی ہیں۔
ماہرین معاشیات اور میکرو اکنامکس (Macroeconomics) کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ ترسیلات زر مقامی معیشتوں کے استحکام اور ترقی کے لیے ایک لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر مہنگائی، مالیاتی بحرانوں اور معاشی سست روی کے باوجود، جنوبی ایشیائی محنت کشوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ان رقوم کے حجم میں تسلسل اور اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ غیر ملکی لیبر مارکیٹ میں اس خطے کے افراد کی طلب بدستور موجود ہے اور ان کی مالیاتی وابستگی انتہائی مستحکم ہے۔
اس نمایاں عالمی رجحان کے پیش نظر، بین الاقوامی سطح پر تارکین وطن کے لیبر حقوق اور ان کے لیے مالیاتی لین دین کی سہولیات کو مزید بہتر اور شفاف بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ فنانشل ٹیکنالوجی (FinTech) اور ڈیجیٹل بینکنگ (Digital Banking) کے بڑھتے ہوئے استعمال نے رقوم کی سرحد پار منتقلی کو تیز تر اور محفوظ بنا دیا ہے، جس کا براہ راست معاشی فائدہ بیرون ملک مقیم کمیونٹی کو ہو رہا ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں، حکومتوں پر بھی یہ لازم ہو گیا ہے کہ وہ اپنے اوورسیز شہریوں کے لیے زیادہ سے زیادہ مراعات اور قانونی تحفظ پر مبنی پالیسیاں مرتب کریں۔
