بھارت اور ویتنام نے اپنے دو طرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک نئے تجارتی روڈ میپ کا اعلان کیا ہے۔ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دونوں ممالک کی قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ 2030 تک باہمی تجارتی حجم (Trade Volume) کو 25 بلین ڈالر کے ہدف تک پہنچایا جائے گا۔ اس روڈ میپ کے تحت مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانے، کسٹمز کے طریقہ کار کو آسان بنانے اور لاجسٹکس کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت دونوں خطوں کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی انضمام کی عکاس ہے۔
اس تجارتی معاہدے کا براہ راست اور مثبت اثر جنوب مشرقی ایشیا میں مقیم ساؤتھ ایشین ڈائسپورہ، خاص طور پر تارکین وطن پر پڑے گا۔ ویتنام میں آئی ٹی (IT)، فارماسیوٹیکلز اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں بھارتی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری سے خطے میں موجود پروفیشنلز کے لیے روزگار کے بے شمار نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ علاوہ ازیں، دو طرفہ سپلائی چین (Supply Chain) میں بہتری سے ان چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کو بھی فائدہ پہنچے گا جو ایشیائی منڈیوں کے درمیان امپورٹ اور ایکسپورٹ کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔
اس معاہدے میں ڈیجیٹل اکانومی، قابل تجدید توانائی (Renewable Energy) اور ای کامرس (E-commerce) جیسے جدید سیکٹرز پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ دونوں ممالک کے حکام کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے تبادلے اور جوائنٹ وینچرز (Joint Ventures) کے ذریعے روایتی تجارتی رکاوٹوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔ اسٹریٹجک شراکت داری کے اس نئے مرحلے میں اسٹارٹ اپس (Startups) اور انوویشن کے لیے بھی ایک سازگار ماحول فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے عالمی منڈی میں دونوں ممالک کی مسابقت میں اضافہ ہوگا۔
ماہرینِ اقتصادیات کے مطابق، بھارت اور ویتنام کے درمیان یہ 25 بلین ڈالر کا تجارتی ہدف خطے کی جیو اکنامکس (Geoeconomics) میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس سے نہ صرف انڈو پیسیفک ریجن میں معاشی استحکام آئے گا، بلکہ یہ گلوبل مارکیٹ کی سپلائی چینز کو متنوع بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ تارکین وطن اور سرمایہ کار اس پیش رفت کو ایک محفوظ اور منافع بخش تجارتی راہداری کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو آنے والے سالوں میں دو طرفہ ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں ہموار کرے گی۔
