سال 2026 میں بین الاقوامی سفر کے رجحانات میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، خاص طور پر ہندوستانی اور دیگر جنوبی ایشیائی مسافروں کے لیے جو روایتی ویزا کے حصول میں طویل تاخیر کا سامنا کر رہے تھے۔ امریکہ اور شینگن ممالک کے ویزا انٹرویوز کے لیے مہینوں طویل انتظار نے خطے کے مسافروں کو نئی سفری حکمت عملی (ویزا ہیکس) اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے جنوبی ایشیائی تارکین وطن اور عالمی سطح پر سفر کرنے والے پیشہ ور افراد کو متبادل راستے تلاش کرنے کی ترغیب دی ہے، تاکہ وہ اپنے کاروباری اور خاندانی سفر کو بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھ سکیں۔
اس نئی حکمت عملی کے تحت، مسافر اب ڈیجیٹل نوماڈ (Digital Nomad) ویزا اور ای ویزا (e-Visa) کی سہولیات کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ مشرقی یورپ، وسطی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک نے ریموٹ ورکنگ کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنی ویزا پالیسیوں کو انتہائی نرم کر دیا ہے۔ خطے کے ہنر مند افراد اور آئی ٹی (IT) پیشہ ور افراد ان سہولیات کا استعمال کرتے ہوئے اب ایسے ممالک کا انتخاب کر رہے ہیں جہاں ویزا آن ارائیول یا فوری الیکٹرانک ویزا کی سہولت دستیاب ہو، جس سے ان کے سفری منصوبوں میں غیر معمولی لچک پیدا ہوئی ہے۔
ایک اور مقبول طریقہ کار جس کا استعمال بڑھ رہا ہے، وہ تیسرے ممالک کے ملٹی انٹری (Multi-entry) ویزوں کا اسٹریٹجک حصول ہے۔ مسافر بخوبی آگاہ ہیں کہ امریکہ یا برطانیہ کا کارآمد ویزا رکھنے سے درجنوں دیگر ممالک میں بغیر ویزا سفر یا ویزا آن ارائیول کی سہولت مل جاتی ہے۔ اس لیے جنوبی ایشیائی تارکین وطن براہ راست کسی ایسے سفارت خانے میں درخواست دینے کے بجائے جہاں رش زیادہ ہو، ان طاقتور ویزوں کو حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں تاکہ ان کی عالمی نقل و حرکت (Global Mobility) مزید ہموار اور تیز تر ہو سکے۔
ان سفری تبدیلیوں کے اثرات محض سیاحت تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اس نے خطے کے تارکین وطن کے لیے خاندانی ملاپ اور کاروباری نیٹ ورکنگ کے نئے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔ اس بدلتے ہوئے منظر نامے میں مختلف ٹریول ٹیک (Travel-Tech) اسٹارٹ اپس بھی میدان میں آ چکے ہیں، جو مسافروں کو ان کے پاسپورٹ کی طاقت کے مطابق بہترین اور تیز ترین ویزا آپشنز تجویز کرتے ہیں۔ ان جدید طریقوں نے جنوبی ایشیائی پاسپورٹ ہولڈرز کو عالمی سطح پر درپیش سفری پابندیوں اور رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے ایک نئی اور موثر راہ فراہم کی ہے۔
