امریکا میں ایک بھارتی شہری کی جانب سے ایچ ون بی (H-1B) ویزا کے حصول اور تجدید میں طویل تاخیر اور انتظامی رکاوٹوں کا سامنا کرنے کے واقعے نے ملکی سطح پر امیگریشن پالیسیوں کی افادیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مذکورہ شخص کی ویزا درخواست طویل عرصے تک زیر التوا رہی، جس کی وجہ سے اس کے کیریئر اور خاندانی زندگی کو شدید غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کے لیے امریکی ویزا کا عمل کس قدر پیچیدہ ہو چکا ہے۔
اس واقعے نے خاص طور پر امریکا میں مقیم جنوبی ایشیائی اور اردو بولنے والے تارکین وطن کے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ ایچ ون بی ویزا پروگرام پر زیادہ تر انحصار بھارت اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے آئی ٹی (IT) ماہرین اور انجینئرز کا ہوتا ہے۔ ویزا کی تجدید میں تاخیر یا مسترد ہونے کی صورت میں نہ صرف ان پیشہ ور افراد کی ملازمتیں خطرے میں پڑ جاتی ہیں، بلکہ انہیں فوری طور پر ملک چھوڑنے کے دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کے معاشی اور خاندانی حالات بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔
قانونی ماہرین اور امیگریشن کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ ایچ ون بی ویزا سسٹم کو جدید دور کی معاشی ضروریات کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ امریکی کانگریس اور پالیسی سازوں کے درمیان یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ آیا ہنر مند افراد کے لیے ویزا کا کوٹہ بڑھایا جائے یا پروسیسنگ کے نظام کو مزید شفاف اور تیز بنایا جائے۔ تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ موجودہ نظام غیر ملکی ٹیلنٹ کو امریکا سے دور کر رہا ہے، جس کا فائدہ کینیڈا اور دیگر ممالک کو ہو رہا ہے۔
جنوبی ایشیائی کمیونٹی اور تارکین وطن اب امریکی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ویزا پالیسیوں میں نرمی اور طویل مدتی رہائش کے مواقع فراہم کرے۔ گرین کارڈ کے حصول میں دہائیوں طویل انتظار اور ایچ ون بی ویزا کی سخت شرائط کے باعث بہت سے تارکین وطن متبادل آپشنز پر غور کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ایک جامع امیگریشن ریفارم متعارف کرایا جائے تاکہ ملکی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے والے غیر ملکی ماہرین کو سماجی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
