ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
World5 مئی، 20261 MIN READ

ایجوکیشن ٹیک کمپنی 'اناسٹرکچر' پر سائبر حملہ، ہزاروں بین الاقوامی اور تارکینِ وطن طلبہ کا ڈیٹا چوری

معروف تعلیمی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم 'اناسٹرکچر' کو ہیکنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے جس میں دنیا بھر کے کروڑوں طلبہ کی ذاتی معلومات لیک ہو گئی ہیں۔ اس واقعے نے امریکہ اور دیگر ممالک میں زیرِ تعلیم ہزاروں جنوبی ایشیائی اور پاکستانی طلبہ کی ڈیجیٹل پرائیویسی اور سیکیورٹی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

ایجوکیشن ٹیک کمپنی 'اناسٹرکچر' پر سائبر حملہ، ہزاروں بین الاقوامی اور تارکینِ وطن طلبہ کا ڈیٹا چوری

تعلیمی ٹیکنالوجی (EdTech) کے عالمی ادارے 'اناسٹرکچر' (Instructure) کو ایک سنگین ڈیٹا بریچ (Data breach) کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کی ذمہ داری معروف سائبر کرمنل گروپ 'شائنی ہنٹرز' (ShinyHunters) نے قبول کی ہے۔ ہیکرز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دنیا بھر کے تقریباً 9 ہزار تعلیمی اداروں کے 275 ملین افراد کا ڈیٹا چوری کر لیا ہے۔ اس چوری شدہ ڈیٹا میں طلبہ کے مکمل نام، ذاتی ای میل ایڈریسز اور اساتذہ کے ساتھ ان کے نجی پیغامات شامل ہیں۔ اگرچہ کمپنی نے پاسورڈز کے محفوظ رہنے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن اہم ذاتی معلومات کے افشاء نے عالمی تعلیمی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔

اس سائبر حملے کا براہ راست اور گہرا اثر امریکہ، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں مقیم ہزاروں جنوبی ایشیائی اور بالخصوص پاکستانی تارکینِ وطن طلبہ پر پڑا ہے۔ غیر ملکی یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم یہ بین الاقوامی طلبہ اپنے روزمرہ کے تعلیمی امور، اسائنمنٹس اور اساتذہ سے رابطے کے لیے 'کینوس' (Canvas) جیسے پلیٹ فارمز پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کا حساس ڈیٹا لیک ہونے سے انہیں شناختی چوری (Identity theft)، فِشنگ (Phishing) اور دیگر سائبر جرائم کا شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ان کے تعلیمی سفر اور ویزا اسٹیٹس کے حوالے سے غیر متوقع پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں۔

ٹیکنالوجی کی خبروں کے مستند ادارے 'ٹیک کرنچ' (TechCrunch) کے مطابق، ہیکرز نے امریکہ کی ریاستوں میساچوسٹس اور ٹینیسی کے دو اسکولوں کے ڈیٹا کے نمونے بھی پیش کیے ہیں تاکہ اپنے دعوے کی سچائی ثابت کر سکیں۔ شائنی ہنٹرز نامی یہ گروپ اس سے قبل بھی متعدد یونیورسٹیوں اور کلاؤڈ ڈیٹا بیس کمپنیوں کو نشانہ بنا چکا ہے، جس کا بنیادی مقصد کمپنیوں کو بلیک میل کر کے بھاری تاوان وصول کرنا ہوتا ہے۔ گروپ کے ایک رکن نے تصدیق کی ہے کہ چوری شدہ ڈیٹا میں تقریباً 231 ملین منفرد ای میل ایڈریسز موجود ہیں، جو اس بریچ کی غیر معمولی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔

اس تشویشناک صورتحال پر 'اناسٹرکچر' کی انتظامیہ نے فی الحال تفصیلی جواب دینے سے گریز کیا ہے اور صارفین کو اپ ڈیٹس کے لیے اپنی آفیشل ویب سائٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ منگل کے روز کمپنی کی جانب سے یہ اعلان ضرور سامنے آیا ہے کہ 'کینوس' سمیت ان کے چند پروڈکٹس کو مرمت اور سیکیورٹی چیکس کے بعد بحال کر دیا گیا ہے۔ تاہم، اس واقعے نے بیرون ملک مقیم پاکستانی اور دیگر غیر ملکی طلبہ کو خبردار کر دیا ہے کہ وہ اپنے ڈیجیٹل اثاثوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنائیں اور نامعلوم ای میلز یا لنکس پر کلک کرنے سے گریز کریں۔

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Original Source: TechCrunch (AI Translated)