ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Technology & Science5 مئی، 20261 MIN READ

مصنوعی ذہانت سے روزگار کو خطرہ نہیں بلکہ نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں: این ویڈیا (Nvidia) کے سی ای او کا بیان

این ویڈیا کے سربراہ نے مصنوعی ذہانت کے باعث بڑے پیمانے پر بے روزگاری کے خدشات کو مبالغہ آرائی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی بالخصوص امریکہ میں کام کرنے والے آئی ٹی ماہرین اور جنوبی ایشیائی تارکین وطن کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کر رہی ہے۔

مصنوعی ذہانت سے روزگار کو خطرہ نہیں بلکہ نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں: این ویڈیا (Nvidia) کے سی ای او کا بیان

امریکہ میں مقیم لاکھوں جنوبی ایشیائی آئی ٹی (IT) اور ٹیکنالوجی پروفیشنلز کے لیے ایک اطمینان بخش خبر سامنے آئی ہے۔ معروف ٹیکنالوجی کمپنی ’این ویڈیا‘ (Nvidia) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جینسن ہوانگ نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے باعث بڑے پیمانے پر بے روزگاری پھیلے گی۔ ملکن انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت روزگار کا دشمن نہیں، بلکہ صنعتی سطح پر نوکریاں پیدا کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ انہوں نے ان خدشات کو بے بنیاد قرار دیا جو ٹیکنالوجی کے حوالے سے مایوسی پھیلانے والے افراد کی جانب سے پیش کیے جا رہے ہیں۔

جینسن ہوانگ کے مطابق، مصنوعی ذہانت امریکہ کو دوبارہ صنعتی عروج پر لے جانے کا بہترین موقع فراہم کر رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو چلانے کے لیے جدید ہارڈویئر (Hardware) اور بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہے، جس سے نئی فیکٹریوں کا قیام عمل میں آ رہا ہے۔ یہ پیش رفت امریکہ میں مقیم پاکستانی اور دیگر جنوبی ایشیائی تارکین وطن کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جو سلیکان ویلی (Silicon Valley) سے لے کر ملک بھر کے تکنیکی شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ نئی فیکٹریوں اور ٹیکنالوجی کے فروغ کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہارڈویئر انجینئرز، ڈیٹا سائنسدانوں اور آئی ٹی ماہرین کی طلب میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی مخصوص کام کے خودکار (Automated) ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ پوری نوکری ہی ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ نوکری کے مقاصد اور مخصوص فرائض میں فرق ہوتا ہے، اور جب مصنوعی ذہانت کسی ایک ذیلی کام کو سنبھالتی ہے، تو تنظیم میں ملازم کا وسیع تر کردار اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔ ہوانگ نے سائنس فکشن (Science Fiction) کہانیوں پر مبنی خوف و ہراس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ لوگ اس قدر خوفزدہ ہو جائیں گے کہ وہ اس نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے اور اس سے فائدہ اٹھانے سے گریز کرنے لگیں گے۔

اگرچہ مصنوعی ذہانت کی صنعت سے وابستہ بعض افراد خود بھی مارکیٹنگ اور توجہ حاصل کرنے کے لیے سنسنی خیز بیانات دیتے ہیں، لیکن ماہرینِ معیشت اس کے طویل المدتی اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ امریکہ میں مقیم پیشہ ور افراد کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ مستند مالیاتی اور تعلیمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، آئندہ چند برسوں میں 15 فیصد تک روایتی نوکریاں ختم یا تبدیل ہو سکتی ہیں۔ تاہم، اس تبدیلی کے نتیجے میں جو نئے مواقع پیدا ہوں گے، وہ ان تارکین وطن کے لیے کیرئیر کی نئی منازل طے کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے جو وقت کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو جدید ٹیکنالوجی کے تقاضوں کے مطابق ڈھال لیں گے۔

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Original Source: TechCrunch (AI Translated)