ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Pakistan6 مئی، 20261 MIN READ

اسلام آباد میں کلائمیٹ چینج کانفرنس: دریائے سندھ کے سکڑتے بیسن پر تشویش اور سمندر پار پاکستانیوں پر اثرات

اسلام آباد میں منعقدہ ’بریتھ پاکستان‘ کانفرنس میں ماہرین نے دریائے سندھ کے سکڑتے ہوئے بیسن اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ ماحولیاتی بحران نہ صرف مقامی زراعت کے لیے خطرہ ہے بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی آبائی جائیدادوں اور معاشی مفادات کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔

اسلام آباد میں کلائمیٹ چینج کانفرنس: دریائے سندھ کے سکڑتے بیسن پر تشویش اور سمندر پار پاکستانیوں پر اثرات

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دوسری ’بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمیٹ چینج کانفرنس‘ (Breathe Pakistan International Climate Change Conference) کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملکی اور بین الاقوامی ماہرین نے دریائے سندھ کے بیسن کے تیزی سے سکڑنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آبی وسائل کے وفاقی وزیر اور دیگر حکام نے اس بات پر زور دیا کہ دریائے سندھ پاکستان کی لائف لائن ہے، لیکن شمال میں گلیشیئرز کے غیر متوقع پگھلاؤ اور ڈیلٹا کے سکڑنے کی وجہ سے ملک کی غذائی سلامتی اور معاشی استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

اس ماحولیاتی بحران کے اثرات مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور جنوبی ایشیائی ڈائسپورا پر بھی براہِ راست مرتب ہو رہے ہیں۔ سیلاب اور شدید خشک سالی جیسی ماحولیاتی آفات کی وجہ سے سمندر پار پاکستانیوں کی آبائی زمینوں، زرعی جائیدادوں اور خاندانی اثاثوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں ان پر ہنگامی امداد اور ترسیلاتِ زر (Remittances) بھیجنے کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ یہ صورتحال تارکینِ وطن کے لیے ایک معاشی اور سماجی چیلنج بن چکی ہے، جو اپنے آبائی وطن کے انفراسٹرکچر کی بقا کے حوالے سے فکرمند رہتے ہیں۔

کانفرنس کے دوران وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور موسمیاتی تبدیلی کے وزیر مصدق ملک نے ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہنگامی پالیسیوں کے بجائے سائنسی اور دیرپا حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ورلڈ بینک (World Bank)، ایشین ڈیولپمنٹ بینک (Asian Development Bank) اور گرین کلائمیٹ فنڈ (Green Climate Fund) کے نمائندوں نے ’کلائمیٹ فنانس‘ (Climate Finance) کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں پائیدار انفراسٹرکچر کی تعمیر ناگزیر ہے، جس میں اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے گرین پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ماہرین نے اس بات کی نشاندہی کی کہ عالمی کاربن اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، جس کی بنیاد پر ملک کو عالمی سطح پر ایک منفرد ’ایتھیکل لیوریج‘ (Ethical Leverage) حاصل ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر، حکومت نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والے ’سٹارٹ اپس‘ (Startups) اور ماحول دوست منصوبوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ ڈائسپورا کمیونٹی کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی اور سرمائے کے ذریعے اپنے وطن کو موسمیاتی آفات سے بچانے اور ایک محفوظ مستقبل کی تعمیر میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Original Source: Dawn News (AI Translated)