اسلام آباد میں 'بریتھ پاکستان' کانفرنس: ماحولیاتی بحران اور تارکینِ وطن کے لیے معاشی مضمرات
اسلام آباد میں منعقدہ 'بریتھ پاکستان' کانفرنس میں ملکی قیادت اور عالمی ماہرین نے ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات پر زور دیا ہے۔ اس سنگین ہوتی صورتحال نے دنیا بھر میں مقیم پاکستانی تارکینِ وطن کے لیے بھی تشویش پیدا کر دی ہے، جنہیں ملکی زراعت اور اپنے خاندانوں کی بقا کے لیے جدید سرمایہ کاری اور تکنیکی معاونت میں اہم کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد میں 'بریتھ پاکستان' کانفرنس: ماحولیاتی بحران اور تارکینِ وطن کے لیے معاشی مضمرات
اسلام آباد میں منعقد ہونے والی دوسری 'بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمیٹ چینج کانفرنس' (Breathe Pakistan International Climate Change Conference) میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات اور ان کے تدارک پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ حکومتی وزراء اور بین الاقوامی ماہرین نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شدید معاشی اور زرعی نقصانات کا سامنا ہے۔ اس تشویشناک صورتحال نے دنیا بھر، بالخصوص امریکہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کے لیے بھی گہری فکرمندی پیدا کر دی ہے، کیونکہ ان کے آبائی علاقوں میں متواتر سیلاب اور غیر متوقع موسمی حالات کی وجہ سے ان کے اہل خانہ کی زندگیاں، رہائش اور ذرائع آمدن براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔
کانفرنس کے دوران ماہرین اور قانون سازوں نے اس حقیقت کو واضح کیا کہ دریائے سندھ کے طاس کا سکڑنا اور حالیہ برسوں کے تباہ کن سیلاب محض ماحولیاتی واقعات نہیں ہیں، بلکہ یہ ملکی فوڈ سیکیورٹی (Food Security) اور سپلائی چین (Supply Chain) کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ زراعت کا شعبہ، جو کہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تسلیم کیا جاتا ہے، سب سے زیادہ خطرے کی زد میں ہے۔ ان موسمیاتی آفات کے نتیجے میں مقامی سطح پر پیدا ہونے والا معاشی بحران سمندر پار پاکستانیوں پر بھی بالواسطہ مالی دباؤ بڑھاتا ہے، جنہیں ہنگامی حالات میں اپنے خاندانوں کی بحالی اور زرعی انفراسٹرکچر کے نقصانات کے ازالے کے لیے اضافی ترسیلات زر بھیجنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
اس اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران وفاقی وزراء نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتی سطح پر قانونی اور پالیسی فریم ورک کی کمی نہیں، بلکہ ان کے موثر نفاذ میں سیاسی اور سماجی ارادے کا فقدان ہے۔ وفاقی وزراء نے واضح کیا کہ مستقبل کے موسمیاتی خطرات سے بروقت نمٹنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (Artificial Intelligence) پر مبنی ارلی وارننگ سسٹمز اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔ مزید برآں، حکومت اور عوام کو مل کر مقامی اور بین الاقوامی سطح پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (Public-Private Partnership) کے ذریعے ایسے منصوبے شروع کرنے کی ضرورت ہے جو دیرپا ماحولیاتی استحکام کو یقینی بنا سکیں۔
اس عالمی چیلنج سے مستقل بنیادوں پر نمٹنے کے لیے کلائمیٹ فنانس (Climate Finance) اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی معاونت کو انتہائی کلیدی قرار دیا گیا۔ ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور ورلڈ بینک کے نمائندوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ ترقی پذیر ممالک کو اس بحران سے نکالنے کے لیے کثیر سرمایہ کاری درکار ہے۔ اس تناظر میں، بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی اور بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والے پروفیشنلز پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والے مقامی گرین سٹارٹ اپس (Startups) میں اپنا سرمایہ لگائیں اور اپنی تکنیکی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کو اس سنگین وجودی خطرے سے نکالنے میں اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔
اسلام آباد میں کلائمیٹ چینج کانفرنس: دریائے سندھ کے سکڑتے بیسن پر تشویش اور سمندر پار پاکستانیوں پر اثرات
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دوسری ’بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمیٹ چینج کانفرنس‘ (Breathe Pakistan International Climate Change Conference) کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملکی اور بین الاقوامی ماہرین نے دریائے سندھ کے بیسن کے تیزی سے سکڑنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آبی وسائل کے وفاقی وزیر اور دیگر حکام نے اس بات پر زور دیا کہ دریائے سندھ پاکستان کی لائف لائن ہے، لیکن شمال میں گلیشیئرز کے غیر متوقع پگھلاؤ اور ڈیلٹا کے سکڑنے کی وجہ سے ملک کی غذائی سلامتی اور معاشی استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔
اس ماحولیاتی بحران کے اثرات مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور جنوبی ایشیائی ڈائسپورا پر بھی براہِ راست مرتب ہو رہے ہیں۔ سیلاب اور شدید خشک سالی جیسی ماحولیاتی آفات کی وجہ سے سمندر پار پاکستانیوں کی آبائی زمینوں، زرعی جائیدادوں اور خاندانی اثاثوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں ان پر ہنگامی امداد اور ترسیلاتِ زر (Remittances) بھیجنے کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ یہ صورتحال تارکینِ وطن کے لیے ایک معاشی اور سماجی چیلنج بن چکی ہے، جو اپنے آبائی وطن کے انفراسٹرکچر کی بقا کے حوالے سے فکرمند رہتے ہیں۔
کانفرنس کے دوران وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور موسمیاتی تبدیلی کے وزیر مصدق ملک نے ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہنگامی پالیسیوں کے بجائے سائنسی اور دیرپا حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ورلڈ بینک (World Bank)، ایشین ڈیولپمنٹ بینک (Asian Development Bank) اور گرین کلائمیٹ فنڈ (Green Climate Fund) کے نمائندوں نے ’کلائمیٹ فنانس‘ (Climate Finance) کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں پائیدار انفراسٹرکچر کی تعمیر ناگزیر ہے، جس میں اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے گرین پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ماہرین نے اس بات کی نشاندہی کی کہ عالمی کاربن اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، جس کی بنیاد پر ملک کو عالمی سطح پر ایک منفرد ’ایتھیکل لیوریج‘ (Ethical Leverage) حاصل ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر، حکومت نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والے ’سٹارٹ اپس‘ (Startups) اور ماحول دوست منصوبوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ ڈائسپورا کمیونٹی کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی اور سرمائے کے ذریعے اپنے وطن کو موسمیاتی آفات سے بچانے اور ایک محفوظ مستقبل کی تعمیر میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔
بریتھ پاکستان کانفرنس: مصدق ملک کی یوتھ لیڈ ماحولیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی اپیل، تارکینِ وطن کے لیے نئے مواقع
اسلام آباد میں منعقدہ ’بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمیٹ چینج کانفرنس‘ کے دوسرے ایڈیشن میں ماحولیاتی تبدیلی، آبی وسائل کی قلت اور کلائمیٹ فنانسنگ (climate financing) جیسے سنگین چیلنجز پر غور کیا گیا۔ وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی مصدق ملک اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سمیت دیگر عالمی ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کاربن کے اخراج میں نہ ہونے کے برابر حصہ ڈالنے کے باوجود شدید ماحولیاتی خطرات کی زد میں ہے۔ کانفرنس میں یوتھ لیڈ (youth-led) پراجیکٹس اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی حل تجویز کیے گئے، جن کا مقصد مقامی کمیونٹیز کو موسمیاتی آفات سے بچانا اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔
آبی امور کی ماہر ڈاکٹر ارم ستار اور وزیر آبی وسائل معین وٹو نے انڈس ڈیلٹا کے سکڑنے اور زراعت پر پڑنے والے منفی اثرات سے خبردار کیا۔ دریاؤں کے خشک ہونے اور زیرِ زمین پانی کی سطح گرنے سے نہ صرف پاکستان کی فوڈ سیکیورٹی (food security) کو خطرہ لاحق ہے، بلکہ اس کا براہِ راست اثر بیرونِ ملک مقیم ان لاکھوں اوورسیز پاکستانیوں پر بھی پڑتا ہے جو اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کے لیے ترسیلاتِ زر بھیجتے ہیں۔ مقامی زراعت اور معیشت کے متاثر ہونے سے تارکینِ وطن پر مالی بوجھ بڑھ رہا ہے، لہٰذا اس بحران سے نمٹنے کے لیے موثر واٹر مینجمنٹ (water management) اور سمارٹ اریگیشن (smart irrigation) جیسی ٹیکنالوجیز کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔
ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور ورلڈ بینک کے حکام نے کلائمیٹ فنانسنگ اور گرین بانڈز (green bonds) کی اہمیت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ یہ پیش رفت خاص طور پر مغربی ممالک اور مشرق وسطیٰ میں مقیم ساؤتھ ایشین ڈائسپورا (South Asian diaspora) کے لیے اہم ہے، جو اب کلائمیٹ ٹیک (climate tech)، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پر مبنی ارلی وارننگ سسٹمز (early warning systems) اور قابلِ تجدید توانائی کے سٹارٹ اپس (startups) میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کو اپنے ماحولیاتی اہداف حاصل کرنے کے لیے 550 ملین ڈالرز سے زائد کی ضرورت ہے، جس میں ڈائسپورا کی سرمایہ کاری ایک کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
کانفرنس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ محض بات چیت سے آگے بڑھ کر عملی اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ معاشی استحکام اور ماحولیاتی پالیسیوں کو یکجا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بیرونِ ملک بسنے والے پاکستانی، جو بین الاقوامی سطح پر جدید ٹیکنالوجی اور فنانس کے شعبوں میں متحرک ہیں، وہ اب محض امداد بھیجنے کے بجائے وینچر کیپٹل (venture capital) کے ذریعے پاکستان کے نوجوانوں کے ماحولیاتی منصوبوں کی سرپرستی کر سکتے ہیں۔ اس جامع نقطہ نظر سے نہ صرف پاکستان ماحولیاتی آفات کا بہتر مقابلہ کر سکے گا، بلکہ اوورسیز کمیونٹی کا اپنے وطن کے ساتھ معاشی اور سماجی رشتہ مزید مضبوط ہوگا۔
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔
Original Source: Dawn News (AI Translated)