متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانی تارکین وطن کے لیے ایک اہم پیش رفت کے تحت، ان ممالک میں موجود پاکستانی سفارت خانوں اور قونصل خانوں نے پاسپورٹ پروسیسنگ اور تجدید کی خدمات کو باضابطہ طور پر بحال کر دیا ہے۔ حالیہ عرصے میں تکنیکی اور انتظامی مسائل کے باعث پاسپورٹ کی فراہمی میں تعطل پیدا ہوا تھا، جس کی وجہ سے بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کو شدید ذہنی و قانونی مشکلات کا سامنا تھا۔ اب اس سروس کی بحالی کے بعد، روزمرہ کے قونصلر امور معمول پر آنا شروع ہو گئے ہیں۔
خلیجی خطے میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد برسرگار ہے، جن کے قانونی قیام اور روزگار کا براہ راست انحصار کارآمد پاسپورٹ پر ہوتا ہے۔ پاسپورٹ کی تجدید میں تاخیر کے باعث تارکین وطن کو اقامہ (رہائشی پرمٹ) اور ایمریٹس آئی ڈی کے حصول میں قانونی پیچیدگیوں، ویزا منسوخی اور زائد المیعاد قیام پر جرمانوں کے خطرات لاحق تھے۔ سفارتی سطح پر سروسز کی بحالی نے محنت کشوں، تاجروں اور پیشہ ور افراد کو ایک بڑا ریلیف فراہم کیا ہے، جس سے وہ مقامی لیبر قوانین کے تحت اپنے رہائشی معاملات کو بروقت مکمل کر سکیں گے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، پاسپورٹ بنانے کے تکنیکی نظام کو اپ گریڈ کیا گیا ہے تاکہ پروسیسنگ کے عمل کو مزید تیز اور مؤثر بنایا جا سکے۔ اب تارکین وطن درخواست گزار مقررہ وقت پر آن لائن اپوائنٹمنٹ بک کر کے اپنے قریبی سفارت خانے یا قونصل خانے سے رجوع کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مشین ریڈ ایبل اور ای پاسپورٹ (e-Passport) کی سہولیات کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں طویل قطاروں اور مہینوں کے انتظار کی زحمت سے بچا جا سکے گا اور ڈیٹا کی تصدیق کا عمل بین الاقوامی معیارات کے مطابق ہوگا۔
یہ پیش رفت نہ صرف انفرادی سطح پر تارکین وطن کے تحفظ کے لیے اہم ہے بلکہ اس کا مثبت اثر ترسیلات زر (remittances) کے تسلسل پر بھی پڑے گا۔ خلیجی ممالک، بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، پاکستان کی معیشت کے لیے غیر ملکی زرمبادلہ کے حصول کا ایک کلیدی ذریعہ ہیں۔ تارکین وطن کے ویزا اور پاسپورٹ کے مسائل کا بروقت حل اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ وہ بغیر کسی قانونی رکاوٹ کے اپنا روزگار جاری رکھ سکیں اور اپنے اہل خانہ کی کفالت کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کی مضبوطی میں بھی اپنا کلیدی کردار ادا کرتے رہیں۔
