پاکستان کا مقامی کوئلے اور متبادل توانائی کے ذریعے 96 فیصد توانائی کی خود انحصاری کا ہدف
مقامی توانائی کے ذرائع بالخصوص Thar coal اور ہائیڈرو پاور پر پاکستان کا جارحانہ زور، قومی معیشت کو بین الاقوامی ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے محف...
This report relies heavily on statements from Pakistan's Energy Minister and state-run news feeds, highlighting the government's official strategy and future energy projections. While the facts are consistently reported, the 96% energy independence goal is a stated political target rather than an independently verified outcome.

تفصیلی جائزہ
مقامی توانائی کے ذرائع بالخصوص Thar coal اور ہائیڈرو پاور پر پاکستان کا جارحانہ زور، قومی معیشت کو بین الاقوامی ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک اسٹریٹجک تبدیلی ہے۔ مقامی پیداوار پر تقریباً مکمل انحصار کا ہدف رکھ کر، انتظامیہ 'circular debt' کے بحران کو حل کرنے اور بجلی کے نرخوں کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس نے صنعتی ترقی کو متاثر کیا ہے۔ تاہم، مقامی کوئلے پر انحصار فوری معاشی بقا اور طویل مدتی عالمی موسمیاتی وعدوں کے درمیان ایک تناؤ کو بھی ظاہر کرتا ہے کیونکہ کوئلہ کاربن کے اخراج کا بڑا ذریعہ ہے۔
نیٹ میٹرنگ پالیسی میں مجوزہ تبدیلیاں اور سولر آلات پر نئے ٹیکسوں نے ریاست اور بجلی پیدا کرنے والے 'prosumer' طبقے کے درمیان ایک تقسیم پیدا کر دی ہے۔ وزیر Awais Leghari کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں ان غریب صارفین کے لیے 'انصاف' یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں جو سولر افورڈ نہیں کر سکتے، جبکہ متبادل توانائی کے اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ اس سے گرین انرجی کے فروغ کی رفتار رک جائے گی۔ حکومت کا موقف ہے کہ سولر اب بھی تین سالہ پے بیک پیریڈ کے ساتھ بہترین سرمایہ کاری ہے، لیکن یہ اقدام دراصل نیشنل گرڈ کے مالی ڈھانچے کو سولر کی وجہ سے ہونے والی ڈی سینٹرلائزیشن سے بچانے کی ایک کوشش معلوم ہوتی ہے۔
عوامی ردعمل
ادارتی اور عوامی تاثر توانائی کی خود مختاری کے حوالے سے محتاط پرامیدی اور نئے ٹیکسوں کے بوجھ پر شدید تشویش کا آمیزہ ہے۔ جہاں مقامی کوئلے سے سستی بجلی کی امید کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے، وہیں سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس نے متوسط طبقے اور ماحولیاتی کارکنوں میں اشتعال پیدا کر دیا ہے جو اسے کلین انرجی پر منتقل ہونے کی سزا سمجھ رہے ہیں۔ حکومت کا بیانیہ 'برابری' پر مبنی ہے، جو ان تبدیلیوں کو معاشی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دے رہی ہے۔
اہم حقائق
- •وزیر توانائی Awais Leghari نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کی 74 فیصد بجلی اس وقت مقامی ذرائع سے پیدا ہو رہی ہے، اور اسے آنے والے برسوں میں 96 فیصد تک لے جانے کا ہدف ہے۔
- •حکومت نے درآمدی کوئلے پر چلنے والے پاور پلانٹس کو مقامی طور پر پیدا ہونے والے Thar coal پر منتقل کرنے کے منصوبوں کو حتمی شکل دے دی ہے تاکہ لاگت اور زرِ مبادلہ کے اخراج کو کم کیا جا سکے۔
- •مجوزہ ریگولیٹری تبدیلیوں میں سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس اور نیٹ میٹرنگ کے نظرثانی شدہ قوانین شامل ہیں جن کا مقصد ان صارفین کے لیے اخراجات متوازن کرنا ہے جن کے پاس سولر سسٹم نہیں ہیں۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔