پاکستان آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ بجٹ مذاکرات میں 230 ارب روپے کے اضافی ٹیکس پر بات کرے گا
آنے والے مذاکرات پاکستانی حکومت کے لیے ایک مشکل توازن برقرار رکھنے کا امتحان ہیں، جو آئی ایم ایف (IMF) کے مالیاتی ڈسپلن اور عوامی ریلیف کے دباؤ کے درم...
This brief synthesized official fiscal data and negotiation goals from regional administrative sources, focusing on the clinical trade-offs between IMF conditionalities and state-proposed relief measures.

تفصیلی جائزہ
آنے والے مذاکرات پاکستانی حکومت کے لیے ایک مشکل توازن برقرار رکھنے کا امتحان ہیں، جو آئی ایم ایف (IMF) کے مالیاتی ڈسپلن اور عوامی ریلیف کے دباؤ کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ اگرچہ وزیراعظم شہباز شریف (Shehbaz Sharif) تنخواہ دار طبقے اور کارپوریٹ سیکٹر پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کے خواہش مند ہیں، لیکن آئی ایم ایف (IMF) کی 'نیٹ زیرو' پالیسی کا تقاضا ہے کہ کسی بھی ریلیف کی تلافی دوسرے شعبوں میں ٹیکس بڑھا کر کی جائے۔
مذاکرات میں ایک اہم نکتہ سالانہ 300 ملین روپے تک کی فروخت والے چھوٹے تاجروں پر 1 فیصد ٹرن اوور ٹیکس کا نفاذ ہوگا۔ وزارتِ خزانہ کے ذرائع ریلیف کے ذریعے ترقی کو فروغ دینے کے حکومتی ہدف اور آئی ایم ایف (IMF) کی جانب سے مشرق وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث 'سخت بجٹ' پر اصرار کے درمیان تناؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
عوامی ردعمل
ادارتی جذبات مالیاتی عجلت اور محتاط عملیت پسندی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر یقینی عالمی حالات کی وجہ سے مذاکرات کی گنجائش بہت کم ہے، جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ حکومت کے پاس اپنی مالیاتی منصوبہ بندی میں محدود اختیارات ہیں۔
اہم حقائق
- •آئی ایم ایف (IMF) کا ایک وفد بدھ سے مالی سال 27-2026 کے بجٹ پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے اسلام آباد پہنچے گا۔
- •بجٹ میں 230 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات کی تجویز دی گئی ہے، جس کا مقصد کل ٹیکس وصولی کا ہدف 15.3 ٹریلین روپے حاصل کرنا ہے۔
- •آئی ایم ایف (IMF) نے مالیاتی اہداف مقرر کیے ہیں جن میں مجموعی بجٹ خسارہ جی ڈی پی (GDP) کا 3.5 فیصد اور پرائمری بجٹ سرپلس 2.8 ٹریلین روپے رکھنا شامل ہے۔
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔