پاکستان اور بھارت کے مابین مئی 2025 میں ہونے والے تاریخی عسکری تنازعے کو آج مکمل ایک سال گزر چکا ہے۔ اس کشیدگی نے نہ صرف خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا بلکہ دنیا بھر میں، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکہ میں مقیم جنوبی ایشیائی تارکینِ وطن کو شدید ذہنی اور سماجی دباؤ کا شکار کیا۔ جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان میزائل حملوں اور فضائی جھڑپوں کی وجہ سے اوورسیز پاکستانیوں میں اپنے اہلِ خانہ کے تحفظ کے حوالے سے گہری تشویش پائی جاتی تھی۔
6 سے 10 مئی 2025 تک جاری رہنے والے اس تنازعے کے دوران، لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور ڈرونز (Drones) کی دراندازی میں شدت آئی۔ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیتے ہوئے متعدد بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے اور 'آپریشن بنیانِ مرصوص' کے تحت عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔ اس دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف سائبر وارفیئر (Cyber Warfare) کا بھی وسیع پیمانے پر استعمال کیا، جس کے نتیجے میں ڈیجیٹل سیکیورٹی اور مواصلاتی نظام متاثر ہوا۔
اس عالمی بحران کا سب سے براہِ راست اثر بیرونِ ملک مقیم تارکینِ وطن پر سفری اور مواصلاتی پابندیوں کی صورت میں پڑا۔ دونوں ممالک کی جانب سے ایئر اسپیس (Airspace) بند کیے جانے کے باعث بین الاقوامی ایئر لائنز (Airlines) کو اپنی پروازیں منسوخ کرنا پڑیں، جس سے ہزاروں اوورسیز پاکستانی اپنے ممالک واپس جانے یا اہلِ خانہ سے ملنے سے محروم رہے۔ مزید برآں، سوشل میڈیا پر پابندیوں اور ڈیجیٹل بلیک آؤٹ نے تارکینِ وطن کے لیے اپنے پیاروں کی خیریت دریافت کرنا انتہائی دشوار بنا دیا تھا۔
بالآخر امریکہ کی سفارتی مداخلت اور عالمی برادری کے دباؤ کے باعث 10 مئی کو فائر بندی کا اعلان ممکن ہو سکا۔ آج ایک سال گزرنے کے بعد، جنوبی ایشیائی ڈائسپورا اس تنازعے سے سبق سیکھتے ہوئے خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے، کیونکہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی کی صورت میں تارکینِ وطن کے ترسیلاتِ زر، سفری معمولات اور کاروباری مفادات کو فوری اور سنگین خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔
